ذرائع ایف بی آر کے مطابق ٹیکس فائلرز کی ملک بھر میں موجود جائیدادوں اور اثاثوں سے متعلق ڈیٹا دستیاب ہے، جس کی مدد سے انکم ٹیکس گوشواروں میں ظاہر کی گئی معلومات کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آر انکم ٹیکس گوشواروں کا اپنے ڈیٹا سے خودکار نظام کے تحت موازنہ کرے گا، جبکہ معلومات کی تصدیق اور ممکنہ بے ضابطگیوں کی نشاندہی کیلئے مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس) سے بھی مدد حاصل کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق گوشواروں میں اثاثے چھپانے یا ریکارڈ میں ردوبدل کرنے پر سخت جرمانے عائد کئے جا سکتے ہیں، تنخواہ دار طبقے کی جانب سے انکم ٹیکس گوشوارہ غلط پُر کرنے پر تنخواہ کے 75 فیصد تک جرمانہ عائد ہونے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
ذرائع ایف بی آر کا کہنا ہے کہ جرمانہ مقررہ وقت پر جمع نہ کرانے کی صورت میں یومیہ ایک ہزار روپے اضافی جرمانہ بھی عائد ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق انکم ٹیکس گوشواروں میں غلطیوں کی تصحیح کیلئے 15 اکتوبر سے پہلے درستگی کرانے کی گنجائش موجود ہے، ٹیکس فائلرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے گوشواروں میں درج معلومات، آمدن اور اثاثوں کی تفصیلات کا جائزہ لے کر کسی بھی غلطی کی بروقت تصحیح یقینی بنائیں۔
