گورنر خیبرپختونخوافیصل کریم کنڈی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پہلی پریس کانفرنس ہے، کل وفاقی حکومت کے فیصلے کے بعد ایمرجنسی کا نفاذ ہوا، آج ایپکس کمیٹی کی میٹنگ بھی ہوئی، صوبہ میں دہشت گردی ہو رہی ہے، ہماری پہلی ترجیح امن قائم کرنا ہے، لانگ مارچ کو خیبر پختونخوا عوام نے مسترد کیا ہے، آج بھی وہ کنٹینر موجود ہے، مگر اسکو لینے والا کوئی نہیں، آج دوسرا دن بھی پر امن رہا، کوئی احتجاج نہیں ہوا، گورنر ہاوس بھی محفوظ ہے، پولیس سی ٹی ڈی کی جو ضرورت ہو گی اسکو پورا کیا جائے گا۔
گورنر فیصل کریم کنڈی کاکہنا تھا کہ پولیس سیکیورٹی اداروں کی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا، ہم پولیس کی تنخواہوں اور شہدا پیکج میں اضافہ کریں گے، صوبے کی ترقی ہماری دوسری ترجیح ہوگی، پولیس کو جو چاہیے ہو گا فراہم کریں گے، چیف سیکریٹری اورآئی جی کو کہا احکامات جاری کریں پولیس کی تنخواہ کم نہیں ہوگی، شہدا کے بچے ہمارے بچےہیں، شہداپیکج بڑھائیں گے،شہدا کے بچوں کو مفت تعلیم دیں گے، اب وہ زمانہ چلا گیاکہ وفاق اور صوبے کاکوآرڈینیشن نہیں ہوگا۔
تحریک انصاف کی پالیسی کابل افغانستان سے آتی تھی، ہماری پالیسیزاسلام آبادسےآئیں گی،کابل اورجلال آبادسےنہیں، آج وزیر داخلہ نے دس اے پی سی گاڑیاں پولیس کو سونپ دی، پہلے بھی گاڑیاں دی جاتی تھیں لیکن لوگ نخرے کرتے تھے، ہمارا مقصد امن قائم کرنا اور خیبر پختونخوا کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے، ڈاکٹرز کو کہتا ہوں احتجاج ختم کریں، آپ کے تمام مسائل حل ہو جائیں گے،جامعات کے مسائل بھی ترجیح بنیادوں پر حل ہونگے۔
ان کا کہناتھا کہ جلد وزیر اعظم بھی پشاور آئیں گے، صوبے کے مسائل کو وزیر اعظم کے ساتھ اٹھائیں گے، جو بھی قانون کو ہاتھ میں لے گر اسکے خلاف ایکشن ہو گا،ہم تیرہ سال کا گند تین ماہ میں ختم کرنے کی کوشیش کریں گے، تحریک انصاف نے وفاق کے سامنے اپنا کوئی مقدمہ نہیں رکھا، افغانستان بارڈر بندش پر وفاق سے بات کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گورنرراج اورایمرجنسی لگنے کے بعد ایڈوائزری کونسل بنی، ہم نے کل ایڈوائزری کونسل کا پہلااجلاس کیا، تمام ایڈوائزرز نے چارج لے لیا ہے،اگلالائحہ عمل دیں گے، ہم نے سیکیورٹی کے حوالے سے بھی اجلاس بلایا، وفاق نےہم پر اعتمادکیا،صوبائی اپیکس کمیٹی کااجلاس بھی ہوا، اعتماد پر پورا اُترنے کیلئے دہشتگردی کیخلاف جنگ ہماری پہلی ترجیح ہے، خیبرپختونخوا کے عوام نے سرکس کو مسترد کر دیا، مختلف جگہوں پر یوم نجات منایا گیا، ایک کنٹینر کا کوئی والی وارث نہیں، انتظا رہے کوئی کنٹینر لے جائے،ورنہ ٹی ایم اے لے جائے گا۔
فیصل کریم کنڈی کا کہناتھا کہ گورنر ہاؤس پر چڑھائی کیلئےآنے والوں کا انتظار کر رہاتھا،کےپی کے عوام نے 13 سال کی مصیبت کو مسترد کر دیا،نئے سفر کاآغاز ہو گیا، فوج،پولیس،ایف سی اورسیکیورٹی اداروں کو باور کراتےہیں ہماری حکومت ساتھ کھڑی ہے، سیکیورٹی فورسزہماری پولیس کےساتھ کھڑی ہیں،جنگیں فوجیں نہیں،قومیں لڑتی ہیں،
