امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس پر عائد نئی پابندیوں سے متعلق اہم اقدام کیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق انہوں نے مخصوص پابندیوں اور تجارتی اقدامات کے خاتمے کے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اس حکم کا تعلق لنڈسے گراہم سینکشننگ روس اینڈ ایران ایکٹ 2026 کے تحت عائد کیے گئے اقدامات سے ہے۔ ایگزیکٹو آرڈر میں بعض پابندیوں، تجارتی رکاوٹوں اور محصولات کے نفاذ کو ختم کرنے کا ذکر کیا گیا ہے۔
مجوزہ پابندیوں کے منصوبے کے تحت امریکی حکومت کو روس سے درآمد ہونے والی اشیا پر بھاری محصولات عائد کرنے کا اختیار دیا جانا تھا۔ اس میں خام تیل اور گیس سمیت دیگر درآمدات شامل تھیں۔
رپورٹس کے مطابق مجوزہ اقدامات کے تحت محصولات کی شرح 100 فیصد تک ہو سکتی تھی۔ تاہم تازہ ایگزیکٹو آرڈر کے تحت کن اشیا اور اقدامات پر اثر پڑے گا، اس کی مکمل تفصیلات دستیاب بیان سے واضح نہیں ہوتیں۔
خبر کے مطابق صدر ٹرمپ نے ستمبر کے وسط میں روس اور ایران پر پابندیوں سے متعلق لنڈسے گراہم ایکٹ کے نام سے ایک بل پر دستخط کیے تھے۔
تازہ حکم اسی قانون کے تحت عائد کیے گئے بعض اقدامات سے متعلق بتایا جا رہا ہے۔ اس اقدام کی مکمل قانونی حدود اور عملی اثرات جاننے کے لیے ایگزیکٹو آرڈر کا اصل متن اہم ہوگا۔


