معروف ٹیکنالوجی ماہر اور ارب پتی، ایلون مسک، نے امریکی معیشت کے بڑھتے ہوئے قرضوں کے بحران پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ فوری کارروائی کے بغیر ملک کو دیوالیہ ہونے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
The Joe Rogan Experience Podcast پر گفتگو کرتے ہوئے، ایلون مسک نے درج ذیل نکات پر روشنی ڈالی کہ امریکہ کا قرضہ 36.17 ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ وفاقی حکومت اپنے اخراجات کا 23% سود کی ادائیگیوں پر خرچ کر رہی ہے، جو مالیاتی نظام کے لیے غیر پائیدار ہے۔انہوںنے
مالی سال 2024 کے اعداد و شمار کے مطابق کل قومی آمدنی: 4.92 ٹریلین ڈالر جبکہ صرف سود کی ادائیگیاں: 1.1265 ٹریلین ڈالر ہیں
ایلون مسک کا مزید کہنا تھا کہ اگر موجودہ رجحان برقرار رہا تو ایک وقت ایسا آ سکتا ہے کہ پورا قومی بجٹ سود کی ادائیگیوں میں خرچ ہو جائے گا، جو معیشت کو مکمل دیوالیہ پن کی طرف دھکیل سکتا ہے۔انہوں نے ڈالر کی قدر میں کمی کے خدشات کا اظہار بھی کیا، یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ امریکی کرنسی اپنے استحکام کو کھو سکتی ہے۔ جولائی 2024 کے ایک انٹرویو میں، مسک نے کہا تھا کہ ڈالر "تباہی کی طرف” گامزن ہے۔
ایلون مسک نے امریکی حکومت پر زور دیا کہ وہ اخراجات کو کم کرے۔ مالیاتی نظم و ضبط قائم کرے اور قرضوں کے بحران سے بچنے کے لیے پائیدار اقدامات کرے۔