روس نے مشرق وسطیٰ کے بحران میں امریکی پالیسیوں کو مورد الزام ٹھہرا دیا

روسی صدر پوتن نے CSTO کے لیے بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کے پروگرام کا اعلان کردیا

اقوام متحدہ میں روس کے مستقل نمائندے واسیلی نیبنزیا نے مشرق وسطیٰ کے جاری بحران کے لیے امریکہ کی "تباہ کن” پالیسیوں کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے ان پر خطے میں عدم استحکام بڑھانے کا الزام لگایا ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں نیبنزیا نے کہا کہ موجودہ بحران کسی اچانک واقعے کا نتیجہ نہیں بلکہ خطے میں دہائیوں سے جاری امریکی حمایت یافتہ فوجی کارروائیوں کا نتیجہ ہے۔انہوں نے خاص طور پر اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے لیے واشنگٹن کی غیر متزلزل حمایت کو نشانہ بنایا، جس نے ان کے مطابق خطے میں کشیدگی کو بڑھا دیا ہے۔واسیلی نیبنزیا نے کہاکہ "یہ مسائل الگ تھلگ پیدا نہیں ہوئے، بلکہ یہ بے مثال اسرائیلی فوجی کارروائیوں کا نتیجہ ہیں، جنہیں واشنگٹن کی مکمل سفارتی اور فوجی حمایت حاصل ہے۔”

روس کی طرف سے امریکہ کی پالیسیوں پر یہ تنقید مشرق وسطیٰ میں موجودہ بحران کے حل کے لیے متبادل نقطہ نظر کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔ تاہم، موجودہ جغرافیائی سیاسی تنازعات کے درمیان فوری امن کے امکانات محدود نظر آتے ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے