بھارت میں خواتین مسلسل جنسی زیادتی کا شکار، عدالتیں ملزموں کو سزائے دینے میں ناکام

0

نئی دہلی : بھارتی عدالتیں زیادتی کا شکار خواتین کو انصاف فراہم کرنے میں ناکام ہوگئیں ۔ مودی سرکار کے دور میں بھارت کی مائیں بہنیں اور بیٹیاں اپنے ہی محافظوں کے ہاتھوں لٹنے لگیں ۔  بھارت میں خواتین مسلسل  جنسی زیادتی اور استحصال کا شکار ہو رہی ہیں ۔

بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق بھارت میں خواتین کے خلاف ریپ سب سے عام جرم ہے ۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) کی 2021 کی سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ  ملک بھر میں عصمت دری کے 31,677 کیسز درج ہوئے۔ بھارتی پولیس اہلکار سنجے رائے   کو خاتون ڈاکٹر کے ریپ اور قتل کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی گئی۔

بھارت میں 31 سالہ ڈاکٹر سے زیادتی  کے انسانیت سوز واقعے کے بعد نہ صرف بھارت بلکہ پوری دنیا میں احتجاج کیا گیا۔ بھارتی عدالت نے فیصلہ دیا کہ سنجے رائے کا جرم اتنا سنگین نہیں کہ اسے سزائے موت دی جائے ۔ درندہ صفت سنجے رائے کو دی جانے والی سزا  یہ بات ثابت کرتی ہے کہ بھارتی عدلیہ ایسے مجرموں کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔

سنجے رائے کے جرم کی تحقیقات اسی کے ادارے سے کروانا اسے ریلیف دینے کے برابر ہے۔ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج انیربن داس کے مطابق یہ ’’مختلف کیس” نہیں ہےجس پر مجرم کو سزائے موت دےدی جائے۔ جج انیربن داس کے ان ریمارکس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بھارتی اعلیٰ عدلیہ کس قدر اخلاقی پستی کا شکار ہو چکی ہے۔

کلکتہ  ریپ کیس سے قبل نربھیا ریپ کیس  2012 نے بھی بھارت کی ساکھ کو ہلا کر رکھ دیا تھا ۔اس واقعے کے بعد  بھی بھارت میں شدید احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ خواتین اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کو بالخصوص بھارت میں خواتین کے ساتھ زیادتی، ہلاکت اور پھر ان کا مذاق اڑانے پر آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.