اقوام متحدہ کی رپورٹ: بنگلہ دیش کی سابق حکومت پر انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات
اقوام متحدہ کی ایک تازہ رپورٹ میں بنگلہ دیش کی سابق حکومت پر سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن میں 2024 میں احتجاجی تحریک کو دبانے کے لیے ماورائے عدالت قتل، بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور تشدد کا منصوبہ شامل تھا۔ رپورٹ کے مطابق، اس دوران 1,400 سے زائد ہلاکتیں ہوئیں، جن کے لیے زیادہ تر سیکیورٹی فورسز کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔
🔹 رپورٹ کے کلیدی نکات
✔️ سینکڑوں ماورائے عدالت قتل کی تصدیق۔
✔️ بڑے پیمانے پر من مانی گرفتاریوں اور تشدد کی دستاویزی شہادتیں۔
✔️ کریک ڈاؤن کے دوران خواتین اور بچوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق، سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ، جو اس وقت بھارت میں مقیم ہیں، کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے گئے ہیں۔ تاہم، انہوں نے بنگلہ دیش واپس جانے سے انکار کر دیا ہے۔اقوام متحدہ نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر شفاف تحقیقات اور احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔
بنگلہ دیش حکومت کا ردعمل
بنگلہ دیش کی موجودہ حکومت نے رپورٹ کا نوٹس لیتے ہوئے مکمل تحقیقات کرانے کا عندیہ دیا ہے۔ تاہم، عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس سے بڑھ کر ملوث افراد کے خلاف بین الاقوامی سطح پر قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔