پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس۔۔۔۔ جنید اکبر نے صدارت کی۔۔۔ پاکستان اسٹیل مل کی اراضی پر قبضہ کیخلاف مل انتظامیہ اور وزارت صنعت و پیداوار کی طرف سے اقدامات نہ کرنے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔۔۔ معاملہ تحقیقات کیلئے نیپ کے سپرد کر دیا۔۔۔کمیٹی نے انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کے سی ای او کی بغیر منظوری تقرری پر دستاویزات طلب کر لیں
اجلاس میں وزارت صنعت و پیداوار کے مالی سال 23-2022 کے آڈٹ پیراز کا جائزہ لیا گیا۔۔ آڈٹ حکام نے بتایا کہ اسٹیل مل کی 252 ایکڑ اراضی پر قبضہ کر لیا گیا ہے جبکہ رہائشی علاقے میں 170 پلاٹوں پر بھی قبضہ ہے۔۔
چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ اسٹیل مل انتظامیہ اسکی ذمہ دار ہے۔۔۔ سیکرٹری صنعت و پیداوار نے کہا کہ اس معاملے کو ایس آئی ایف سی کے پاس لے کر گئے ہیں ۔۔خواجہ شیراز نے کہا کہ ایس آئی ایف سی کا اس معاملے سے کیا تعلق ہے؟
سیکرٹری صنعت نے کہا کہ ہمیں سندھ حکومت کی مدد درکار تھی۔۔ سید نوید قمر نے کہا کہ ایس آئی ایف سی صرف سہولت کاری کیلئے ہے اس معاملےکو وزارت صنعت و پیداوار اور اسٹیل مل نے حل کرنا ہے
اسٹیل مل کے پاس بڑی تعداد میں سیکورٹی گارڈز ہیں زمین پر قبضہ ملی بھگت سے ہوتا ہے۔۔چوہدری جنید انوار نے کہا کہ مل انتظامیہ نے قبضہ روکنے کیلئے 2020 میں اسکواڈ بنایا تھا اسکی کارکردگی کہاں ہے۔۔۔
چیئرمین پی اے سی نے معاملہ مزید تحقیقات کیلئے نیب کے حوالے کرتے ہوئے دو ماہ میں رپورٹ طلب کر لی۔۔
