صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے ایک دھواں دار اور متنازعہ خطاب کیا، جس میں انہوں نے اپنی انتظامیہ کی تیز رفتار تبدیلیوں، امریکہ فرسٹ ایجنڈے، اور ڈیموکریٹس پر سخت تنقید کو نمایاں کیا۔ خطاب کے دوران ڈیموکریٹس نے واک آؤٹ کیا، اور کئی مقامات پر شدید احتجاج دیکھنے میں آیا۔
ٹرمپ کے خطاب کی اہم نکات:
✅ 1. ایگزیکٹو ایکشن اور حکومتی اصلاحات
- 6 ہفتوں میں 100 سے زائد ایگزیکٹو آرڈرز، "واشنگٹن کی دلدل ختم کرنے” کا عزم۔
- امریکہ کو پیرس معاہدے، عالمی ادارہ صحت، اور اقوامِ متحدہ انسانی حقوق کونسل سے نکالنے کا اعلان۔
- ایلون مسک کو حکومتی کارکردگی میں بہتری کے لیے ایک نئے منصوبے کا سربراہ مقرر کیا گیا۔
- "بیوروکریسی کو کم کرنے” کے لیے نافرمان سرکاری ملازمین کی فوری برطرفی کی وارننگ۔
✅ 2. ڈیموکریٹس اور بائیڈن انتظامیہ پر شدید حملے
- جو بائیڈن کو "تاریخ کا بدترین صدر” قرار دیا اور انہیں معاشی بدحالی، مہنگائی اور انڈوں جیسے بنیادی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔
- ڈیموکریٹس پر الزام: "چاہے کچھ بھی کہہ دوں، یہ خوش نہیں ہوں گے۔”
- ایوان نمائندگان کے ڈیموکریٹ ال گرین نے ٹرمپ کو روکنے کی کوشش کی، جس پر انہیں زبردستی چیمبر سے نکال دیا گیا۔
✅ 3. تجارتی جنگ اور اقتصادی پالیسیاں
- چین، میکسیکو، اور کینیڈا کے خلاف سخت تجارتی اقدامات، "جو ٹیرف ہم پر لگے گا، وہی ہم بھی لگائیں گے”۔
- امریکہ میں نایاب معدنیات کی پیداوار بڑھانے کے لیے بڑے اقدامات، تاکہ چین پر انحصار کم ہو۔
✅ 4. خارجہ پالیسی اور یوکرین جنگ
- یوکرین کے صدر زیلنسکی کا خط پڑھ کر سنایا، جس میں کیف نے امن مذاکرات پر رضامندی ظاہر کی۔
- اعلان: "ہم جنگ ختم کریں گے، امریکہ کا پیسہ مزید ضائع نہیں ہونے دیں گے۔”
✅ 5. مہتواکانکشی منصوبے: پاناما کینال، گرین لینڈ، اور مریخ
- "پاناما کینال پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے” اور گرین لینڈ خریدنے کے منصوبوں کو دوبارہ زندہ کرنے کا اعلان۔
- خلائی تحقیق پر زور: "ہم امریکی پرچم مریخ پر لگائیں گے!”
کانگریس میں ہنگامہ اور ڈیموکریٹس کا واک آؤٹ
🚨 اجلاس کے دوران مناظر:
- ڈیموکریٹس کا احتجاج، بعض نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔
- ال گرین کی زبردستی بے دخلی۔
- اسپیکر مائیک جانسن کا ڈیموکریٹس پر سخت ردعمل۔
ٹرمپ انتظامیہ کے لیے آگے کیا؟
ٹرمپ کی تقریر جارحانہ قوم پرستی، سخت گیر پالیسیوں اور مخالفین کے خلاف سخت مؤقف کو واضح کرتی ہے۔ ان کے انتظامی اقدامات، اقتصادی فیصلے، اور خارجہ پالیسی آئندہ مہینوں میں امریکی سیاست کا رخ متعین کریں گے۔
