حماس نے اسرائیلی یرغمالی کی ویڈیو جاری کر دی، جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کا مطالبہ

فلسطینی تنظیم حماس نے ایک اسرائیلی یرغمالی کی نئی ویڈیو جاری کی ہے، جس میں یرغمالی کو زندہ اور اپنے خاندان سے براہ راست مخاطب ہوتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو میں اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ غزہ میں جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔

یہ ویڈیو ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے مذاکرات نازک مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ ویڈیو میں یرغمالی اپنی شناخت ظاہر کرتے ہوئے اسرائیلی حکومت سے درخواست کر رہے ہیں کہ وہ جنگ بندی کے اگلے مرحلے کو آگے بڑھائے تاکہ قیدیوں کے تبادلے کے عمل کو مکمل کیا جا سکے۔

گزشتہ چھ ہفتے جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے تحت نسبتاً پرسکون رہے، جس کے دوران اسرائیلی یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کا تبادلہ ہوا۔ تاہم، اس مرحلے کے ختم ہونے کے بعد اسرائیل نے جنگ بندی کو وسط اپریل تک بڑھانے کی خواہش ظاہر کی ہے، جبکہ حماس دوسرے مرحلے پر عمل درآمد کے لیے زور دے رہی ہے، جس کے تحت دشمنی کے مستقل خاتمے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

یرغمالیوں کی تازہ صورتحال

اسرائیلی حکام کے مطابق، اکتوبر 2023 میں حماس کے حملے کے دوران 251 افراد یرغمال بنائے گئے تھے، جن میں سے 58 تاحال غزہ میں موجود ہیں۔ اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ 34 یرغمالی ہلاک ہو چکے ہیں۔

ثالثی کوششیں اور مستقبل کے امکانات

اس پیش رفت کے بعد اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری مذاکرات پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔ بین الاقوامی ثالثوں کی کوشش ہے کہ جنگ کے طویل المدتی حل کے لیے فریقین کسی معاہدے پر پہنچ سکیں۔

ویڈیو کی آزادانہ تصدیق تاحال باقی ہے، جبکہ عالمی میڈیا نے یرغمالی کی شناخت اس وقت تک ظاہر نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جب تک کہ ان کے اہل خانہ کی جانب سے باضابطہ تصدیق نہیں کی جاتی۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے