اسرائیل اور امریکہ نے عرب ممالک کے حمایت یافتہ اس منصوبے کو مسترد کر دیا ہے جس کا مقصد غزہ کے بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور شہریوں کی جبری نقل مکانی کے بغیر تعمیر نو ہے۔ دونوں ممالک نے سلامتی اور حکمرانی کے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے اس منصوبے کو ناقابلِ قبول قرار دیا ہے۔
اسرائیلی اور امریکی موقف
🔹 اسرائیل: اسرائیلی حکومت کا مؤقف ہے کہ سیکیورٹی خدشات دور کیے بغیر غزہ کی تعمیر نو ممکن نہیں۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی تعمیر نو منصوبے میں غیر فوجی اقدامات اور نئی حکمرانی کا نظام شامل ہونا چاہیے۔
🔹 امریکہ: وائٹ ہاؤس نے اسرائیلی خدشات کی توثیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ میں پائیدار امن اور سلامتی کے اقدامات کیے بغیر بڑے پیمانے پر تعمیر نو کے لیے فنڈنگ فراہم نہیں کی جا سکتی۔
عرب ممالک اور عالمی دباؤ
53 ارب ڈالر کے مجوزہ تعمیر نو منصوبے میں تباہ شدہ مکانات، ہسپتالوں اور بنیادی انفراسٹرکچر کی بحالی شامل ہے۔ عرب اور عالمی رہنماؤں نے اسرائیل اور امریکہ کے انکار پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
🔸 سعودی عرب، مصر اور قطر نے فوری جنگ بندی اور بلا تاخیر تعمیر نو پر زور دیا ہے۔
🔸 اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں نے خبردار کیا ہے کہ غزہ کے لاکھوں شہریوں کو فوری امداد اور پناہ کی ضرورت ہے۔
🔸 فلسطینی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی مخالفت کا مقصد غزہ کی اقتصادی اور سماجی بحالی میں رکاوٹ ڈالنا ہے۔
