کینیڈا کے وزیرِاعظم مارک کارنی کا ممکنہ انتخابی اعلان، 28 اپریل کو انتخابات متوقع

کینیڈا کے وزیرِاعظم مارک کارنی سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اس اتوار کو پارلیمنٹ تحلیل کر کے نئے وفاقی انتخابات کا اعلان کریں گے، جس کے تحت ملک بھر میں 28 اپریل کو ووٹنگ ہو سکتی ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق، کارنی نے اپنی کابینہ کے سینئر اراکین سے مشاورت مکمل کر لی ہے اور وہ جلد گورنر جنرل کو باضابطہ درخواست دیں گے کہ پارلیمنٹ تحلیل کر کے عوام کو نیا مینڈیٹ حاصل کرنے کا موقع دیا جائے۔

مارک کارنی جنوری میں جسٹن ٹروڈو کے استعفے کے بعد لبرل پارٹی کے رہنما اور وزیرِاعظم بنے تھے۔ وہ بینک آف کینیڈا اور بینک آف انگلینڈ کے سابق گورنر ہیں، تاہم سیاست میں وہ نیا چہرہ سمجھے جاتے ہیں اور یہ انتخابات ان کے لیے پہلا بڑا امتحان ہوں گے۔

لبرل پارٹی حالیہ سروے میں کنزرویٹو پارٹی کے پیری پوئیلیور سے پیچھے دکھائی دے رہی تھی، لیکن امریکہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث حکومت کو عوامی حمایت میں کچھ بہتری ملی ہے۔

وزیرِاعظم کارنی کو اس وقت بڑے سفارتی چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں امریکہ کے ساتھ تجارتی جنگ سرِفہرست ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں کینیڈین درآمدات پر 25 فیصد تک محصولات عائد کر دیے ہیں اور کینیڈا پر غیر قانونی امیگریشن اور فینٹینائل کی اسمگلنگ کو فروغ دینے کے الزامات لگائے ہیں۔

کارنی نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے جوابی اقتصادی اقدامات کی حمایت کی ہے اور دوسرے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ٹرمپ کے اس متنازعہ بیان پر کہ "کینیڈا کو امریکہ کی 51ویں ریاست بن جانا چاہیے”، کارنی نے دوٹوک جواب دیتے ہوئے کہا کہ"امریکہ، کینیڈا نہیں ہے، اور کینیڈا، امریکہ نہیں بنے گا۔ ہمارا ملک خودمختار ہے اور اپنی قومی سالمیت کا بھرپور دفاع کرے گا۔”

توقع ہے کہ کارنی کی انتخابی مہم اقتصادی لچک، تجارتی خودمختاری اور کینیڈا کے قومی مفادات کے دفاع پر مرکوز ہوگی، جبکہ اپوزیشن کنزرویٹو پارٹی مہنگائی، ٹیکس اصلاحات اور امیگریشن پالیسی کو اپنی مہم کے بنیادی نکات بنا سکتی ہے۔

اگر اتوار کو پارلیمنٹ تحلیل ہو جاتی ہے، تو کینیڈا میں ایک مہینے کی بھرپور انتخابی مہم کا آغاز ہو جائے گا۔ عوام، تجزیہ کار اور عالمی برادری اس الیکشن کو گہری نظر سے دیکھ رہی ہے، کیونکہ اس کے نتائج نہ صرف کینیڈا بلکہ شمالی امریکہ کی سیاست پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے