انڈونیشیا میں متنازعہ فوجی قانون منظور، سویلین امور میں فوجی اثر و رسوخ بڑھنے کا خدشہ

انڈونیشیا کی پارلیمنٹ نے ایک متنازعہ فوجی قانون کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت فوجی افسران کو حکومتی اداروں میں زیادہ سویلین کردار ادا کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس اقدام نے جمہوری کارکنوں اور انسانی حقوق کے گروپوں میں شدید خدشات کو جنم دیا ہے، جو اسے آمرانہ حکمرانی کی طرف ممکنہ واپسی قرار دے رہے ہیں۔

اہم نکات:

✅ فوجی افسران کو سرکاری اداروں میں شامل ہونے کے لیے مستعفی ہونا ہوگا۔
✅ فوج کے کاروباری شعبوں میں اثر و رسوخ کے خدشات کو کم کرنے کا دعویٰ۔
✅ حقوق کے کارکنوں نے فوج کے شہری امور میں کردار کو طاقت کے ممکنہ غلط استعمال سے جوڑا۔

اس بل کی منظوری پر جمہوریت کے حامیوں نے مظاہرے کئےطلبہ گروپ اور کارکنان جکارتہ میں پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کرتے رہے۔رات بھر دھرنا دیا اور سویلین انتظامیہ میں فوج کے کردار کو محدود کرنے کا مطالبہ کیاسیکیورٹی فورسز، جن میں فوجی اہلکار بھی شامل تھے، مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے تعینات رہے

وزیر دفاع سجفری سجام الدین نے کہا کہ یہ قانون جغرافیائی سیاسی خطرات کے پیش نظر فوج کو جدید بنانے کے لیے ضروری ہے، مگر خطرات کی نوعیت واضح نہیں کی۔صدر پرابوو سوبیانتو، جو سابق اسپیشل فورسز کمانڈر بھی رہ چکے ہیں، اس قانون کے ذریعے فوج کے قومی حکمرانی میں کردار کو مزید مستحکم کر رہے ہیں۔

جمہوری تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ قانون سویلین نگرانی کو کمزور کر سکتا ہے اور فوجی استثنیٰ میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے، جو انڈونیشیا میں ماضی کے آمرانہ ادوار کی یاد دلاتا ہے۔

یہ قانون انڈونیشیا کی جمہوری پالیسی اور سویلین حکومت کے مستقبل کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ انسانی حقوق کے گروہ اس کے طویل مدتی اثرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے