ایران کے خلاف عراقی کرد جنگجوؤں کی جانب سے زمینی حملہ شروع کیے جانے کا دعویٰ سامنے آیا ہے، تاہم ایرانی حکام نے اس خبر کی تردید کر دی ہے۔
امریکی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ایک اہلکار نے کہا کہ تقریباً ایک ہزار عراقی کرد جنگجوؤں نے ایران کے خلاف زمینی کارروائی شروع کر دی ہے جبکہ ہزاروں کرد جنگجو سرحد عبور کر کے ایرانی علاقوں میں داخل ہو رہے ہیں۔
ادھر پیٹ ہیگسیتھ نے بھی ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکی فوج براہِ راست ایران کے خلاف باغیوں کو اسلحہ فراہم نہیں کر رہی، تاہم انہوں نے یہ امکان ظاہر کیا کہ امریکی حکومت کے دیگر ادارے ممکنہ طور پر اس عمل میں شامل ہو سکتے ہیں۔
برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا اور اسرائیل گزشتہ ایک سال سے کرد ملیشیا کو اسلحہ فراہم کر رہے تھے۔ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ عراق کے شہر نجف کے صحرائی علاقے میں چار سے سات ہیلی کاپٹروں کے ذریعے کرد جنگجوؤں کے لیے اسلحہ بھی گرایا گیا تھا۔
دوسری جانب ایرانی خبر ایجنسی نے ان خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے تین سرحدی صوبوں میں کرد جنگجوؤں کے عراق سے داخل ہونے کی اطلاعات درست نہیں ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس قسم کی متضاد اطلاعات کے باعث خطے میں کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
