امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف ایک غیرمعمولی اقدام میں سابق نائب صدر کملا ہیرس، سابق وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن اور دیگر کئی اہم ڈیموکریٹک شخصیات کی سیکیورٹی کلیئرنس منسوخ کر دی ہے۔
جمعہ کے روز جاری کردہ ایک صدارتی یادداشت میں ٹرمپ نے کہا کہ کچھ افراد کی خفیہ معلومات تک رسائی "اب قومی مفاد میں نہیں رہی”۔ اس فیصلے سے متاثر ہونے والی شخصیات میں شامل ہیں:
- سابق وزیر خارجہ انٹونی بلنکن
- بائیڈن انتظامیہ کے سابق قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان
- روس کی ماہر فیونا ہل، جو ٹرمپ کی پہلی مدت میں قومی سلامتی کونسل کا حصہ رہ چکی ہیں
اس کے علاوہ ریپبلکن پارٹی کے وہ رہنما بھی اس فیصلے کی زد میں آئے ہیں جو ماضی میں ٹرمپ کے ناقد رہے ہیں۔ ان میں شامل ہیں:
- سابق کانگریس وومن لِز چینی، جنہوں نے 6 جنوری کی تحقیقات میں اہم کردار ادا کیا تھا
- ایڈم کنزنگر، جو کیپیٹل ہل حملے کی تحقیقات کے حامی رہے
ٹرمپ کے اس فیصلے کو ان کے ناقدین "سیاسی انتقامی کارروائی” قرار دے رہے ہیں، جب کہ ان کے اتحادی اسے قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ایک ضروری اقدام کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل جو بائیڈن نے بھی 2021 میں ٹرمپ کی سیکیورٹی کلیئرنس منسوخ کر دی تھی، تاہم عموماً سابق صدور کو قومی سلامتی کے معاملات پر مشاورت کے لیے انٹیلی جنس بریفنگز دی جاتی ہیں۔
ٹرمپ کے اس فیصلے نے واشنگٹن میں پہلے سے موجود سیاسی تقسیم کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ دوسری مدت کے لیے اپنی حکومتی طاقت کو مستحکم کر رہے ہیں اور اپنے مخالفین کے خلاف سخت اقدامات کر رہے ہیں۔
ڈیموکریٹس نے اس فیصلے کو "سیاسی انتقام” قرار دیا ہے، جب کہ ریپبلکن حلقے اسے امریکی سیکیورٹی کے تحفظ کے لیے ایک ضروری قدم کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
