وفاقی وزیر بجلی اویس لغاری نے کہا ہے کہ ائی پی پیز کے نظرثانی معاہدوں کے دوران عالمی دباؤ بھی برداشت کیا ۔۔ نظرثانی معاہدوں سے بجلی ٹیرف میں کمی پر کام جاری ہے عوام کو یکم اپریل سے بجلی ٹیرف میں ریلیف فراہم کرنے کا کام حتمی مراحل میں ہے۔۔ وزیراعظم باقاعدہ اعلان کر کے عوام کو سستی بجلی کا تحفہ پیش کریں گے
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی پاور کا اجلاس سینیٹر محسن عزیز کی زیر صدارت ہوا ۔۔ محسن عزیز نے ہوچھا کہ عوام کو بجلی ٹیرف میں کیا ریلیف دیا جائے گا ۔۔ سپیشل سیکرٹری پاور ڈویژن نے کہا کہ ریلیف ابھی فائنل کیا جا رہا ہے
وزیر بجلی نے بتایا کہ ٹاسک فورس نے 29 آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے کر لیئے جبکہ 6 آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے ختم کر دیئے جس سے 411 ارب روپے کی بچت ہو گی جبکہ بگاس کے 9 پلانٹس اور 14 آئی پی پیز سے نظر ثانی معاہدوں سے 237 ارب روپے کی بچت ہو گی
وفاقی وزیر نے کہا کہ اس وقت 2015 پالیسی والے آئی پی پیز اور ونڈ پاور والوں کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں حکومت کے چار ایل این جی پاور پلانٹس اور نندی پور اور جامشورو پر پلانٹس پر معاہدے ہو گئے ہیں ان آئی پی پیز نے اگلے 3 سے 20 سالوں تک چلنا تھا اور اربوں روپے کی کیپیسٹی پیمنٹس ادا کرنا پڑتی جس سے 3 ہزار 400 ارب روپے کی بچت ہو گی
وفاقی وزیر نے کہا کہ نیٹ میٹرنگ میں تبدیلی سے ملک میں سولرائزیشن نہیں رکے گی اسکا مقصد صارفین کو گرڈ کے ساتھ منسلک رکھنا ہے تاکہ بجلی کی قیمت میں اضافہ ہو۔
