پنجاب کا 5335 ارب روپے کا بجٹ کثرت رائے سے منظور، کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا

لاہور – پنجاب اسمبلی نے مالی سال 2025-26 کے لیے 5335 ارب روپے مالیت کے صوبائی بجٹ کو کثرت رائے سے منظور کر لیا۔ بجٹ میں کسی بھی شعبے پر کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا جبکہ تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ، ترقیاتی منصوبے، تعلیم، صحت اور زراعت سمیت کئی اہم شعبوں میں بھاری گرانٹس کی منظوری دی گئی ہے۔

صوبائی وزیر خزانہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمٰن نے ایوان میں فنانس بل 2025 پیش کیا، جسے کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔ بجٹ میں موجودہ ٹیکس ڈھانچہ برقرار رکھا گیا ہے اور نئے مالی سال میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا۔

چار اہم بلز پیش کیے گئے

اسمبلی میں درج ذیل چار اہم بل پیش کیے گئے:

  1. پنجاب آٹزم اسکول اور ریسورس سینٹر بل 2025
  2. شہری غیر منقولہ جائیداد ٹیکس ترمیمی بل 2025
  3. ضروری اشیاء کی قیمتوں پر کنٹرول کا ترمیمی بل 2025
  4. پنجاب لیبر کورٹس بل 2025

بجٹ کا مالیاتی خاکہ

  • کل بجٹ: 5335 ارب روپے
  • این ایف سی ایوارڈ کے تحت آمدن: 4060 ارب
  • صوبائی محصولات: 828 ارب
  • جاری اخراجات: 2706 ارب
  • کیپٹل اخراجات: 590 ارب

پنجاب اسمبلی نے 4329 ارب روپے سے زائد کے مطالبات زر کی منظوری دے دی۔
اختصاصات کی تفصیل درج ذیل ہے:

شعبہمختص رقم
تعلیم137 ارب 53 کروڑ
صحت258 ارب 97 کروڑ
پولیس200 ارب 10 کروڑ
پنشن462 ارب 16 کروڑ
جیل انتظامیہ27 ارب 25 کروڑ
سڑکیں و پل120 ارب
سرکاری عمارات161 ارب
زرعی شعبہ26 ارب 53 کروڑ
زرعی قرضے66 ارب 21 کروڑ
صنعتی ترقی18 ارب 22 کروڑ
آب پاشی37 ارب 96 کروڑ
سول ڈیفنس1 ارب 32 کروڑ

تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ

حکومت پنجاب نے:

  • ماہانہ کم از کم اجرت 40,000 روپے مقرر کی
  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ
  • پنشن میں 5 فیصد اضافہ کی منظوری دے دی

ٹیکس پالیسی: نیگٹیو لسٹ کا نفاذ

پنجاب فنانس بل 2025 میں سروسز پر ٹیکسز کے لیے نیگٹیو لسٹ متعارف کرائی گئی ہے، جس کے ذریعے:

  • ٹیکس نظام کو سہل اور جامع بنایا جائے گا
  • ٹیکس بیس میں وسعت اور وصولیوں میں بہتری کا امکان ہے

ترقیاتی منصوبے: 18 شعبوں میں نئی اسکیمز

نئے بجٹ میں 18 شعبوں میں ترقیاتی منصوبے شامل کیے گئے ہیں۔
910 ارب روپے سے زائد کی رقم ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص کی گئی ہے، جس میں:

  • انفراسٹرکچر (سڑکیں، پل)
  • صحت و تعلیم
  • آب پاشی، زراعت، صنعت
  • ویٹرنری، فشریز، پولیس و عدلیہ شامل ہیں۔

اپوزیشن کی تجاویز مسترد

اپوزیشن کی طرف سے پیش کی گئی 8 محکموں سے متعلق کٹوتی کی تمام تحاریک مسترد کر دی گئیں، جبکہ 41 مطالبات زر منظور کیے گئے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے