وفاق کی پالیسی سے اختلاف،جو افغان مہاجر کےپی میں رہنا چاہے اسے نہیں نکالیں گے:علی امین گنڈاپور

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور وفاقی حکومت کی افغان شہریوں کی ملک بدری کی پالیسی سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو افغان شہری کے پی میں رہنا چاہے اسے نہیں نکالا جائے گا۔۔ انہوں نے کہا وفاق کی پالیسی پر عملدرآمد نہیں کریں گئے جو بھی افغان مہاجرین کے پی کے میں رہنا چاہتا ہے اس قیام کی سہولت دیں گے۔۔

انہوں نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کی بڑھتی ہوئی لہر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردی کا مؤثر حل مزاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اکے پی حکومت نے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے مزاکرات کی پالیسی اپنائی تھی اور اس پالیسی پر آج بھی یقین رکھتے ہیں۔


علی امین گنڈاپور نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ 2200 کلومیٹر طویل سرحد دہشتگردی کے واقعات میں اضافے کا سبب ہے، اور اس مسئلے کا حل افغانستان کے ساتھ بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے عالمی طاقتوں کے ساتھ جنگ میں کامیابیاں حاصل کیں، مگر دہشتگردی کے مسائل اب بھی برقرار ہیں۔


وزیر اعلیٰ نے وفاقی حکومت پر الزام عائد کیا کہ ان کے دور میں دہشتگردی کی صورتحال میں بہتری آئی تھی لیکن مختلف اداروں اور سیاسی قوتوں نے ان کی حکومت کو کمزور کرنے کے لیے سازشیں کیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی پولیس کو اعتماد میں نہیں لیا گیا اور وفاقی اداروں کی جانب سے کئے گئے آپریشنز سے علاقے میں مزید مشکلات پیدا ہوئیں۔

علی امین گنڈاپور نے افغان پناہ گزینوں کے معاملے پر بھی اپنی حکومت کی پالیسی واضح کی اور کہا کہ افغان پناہ گزینوں کے حوالے سے صوبائی حکومت کی جانب سے کوئی زبردستی کارروائی نہیں کی جائے گی۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے