مارک کارنی کی قیادت میں کینیڈا میں لبرلز کی فتح، چوتھی مدت کے لیے حکومت قائم
کینیڈا کی لبرل پارٹی نے مارک کارنی کی قیادت میں 2025 کے وفاقی انتخابات میں کامیابی حاصل کر لی ہے، جس کے ساتھ ہی پارٹی مسلسل چوتھی مرتبہ حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی ہے۔
تازہ ترین اندازوں کے مطابق، لبرلز اقلیتی حکومت تشکیل دیں گے، کیونکہ وہ 343 رکنی ایوانِ نمائندگان میں اکثریت کے لیے درکار 172 نشستوں سے کم پر قابض ہیں۔
کنزرویٹو پارٹی کے رہنما پیئر پوئیلیور نے پیر کی شام اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے مارک کارنی کو کامیابی پر مبارکباد دی۔
انہوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ ان کی جماعت نے 1988 کے بعد سے سب سے زیادہ قومی ووٹ شیئر حاصل کیا ہے، جو کنزرویٹو حمایت میں اضافے کا مظہر ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کینیڈا کی برآمدات پر ممکنہ محصولات اور کینیڈا کی خودمختاری پر متنازعہ بیانات نے کینیڈین عوام میں قوم پرستانہ جذبات کو ابھارا، جس نے لبرل پارٹی کی حمایت خاص طور پر شہری علاقوں اور اہم صوبوں میں بڑھائی۔
بینک آف کینیڈا اور بینک آف انگلینڈ کے سابق گورنر مارک کارنی نے مارچ میں جسٹن ٹروڈو کے استعفیٰ کے بعد لبرل پارٹی کی قیادت سنبھالی۔
ان کی اقتصادی مہارت اور متوازن قیادت نے ووٹرز کا اعتماد جیتنے میں اہم کردار ادا کیا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب تجارت اور عالمی مالیاتی استحکام کے حوالے سے خدشات بڑھ رہے تھے۔
نیو ڈیموکریٹک پارٹی (این ڈی پی) کو شدید نقصان اٹھانا پڑا، جہاں پارٹی رہنما جگمیت سنگھ اپنی نشست ہار گئے اور بعد ازاں مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا۔
اسی طرح بلاک کیوبیکوا نے بھی کئی نشستوں پر شکست کھائی، جس سے پارلیمنٹ میں ان کی قوت کمزور ہو گئی۔
اقلیتی حیثیت میں حکومت سازی کے بعد لبرلز کو آئندہ قانون سازی کے عمل میں دیگر جماعتوں کے ساتھ اشتراک اور اتحاد سازی پر انحصار کرنا پڑے گا۔
آنے والے مہینے استحکام، مذاکرات اور سیاسی تعاون کے لیے نہایت اہم ہوں گے۔
2025 کے الیکشن میں ریکارڈ ابتدائی ووٹنگ دیکھنے میں آئی، جو کینیڈا کے مستقبل کے عالمی کردار، اقتصادی استحکام اور امریکہ کے ساتھ تعلقات پر عوامی تشویش کی عکاسی کرتی ہے۔