پاکستانی قوم مودی کے باولے اور پاگل پن کے آگے نہیں جھکے گی:بلاول بھٹو

0

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی منسوخی پاکستان کیلئے سزا نہیں ہے یہ انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ یہ پانی کو سیاست زدہ کرنا ہے۔ یہ کیا پاگل پن ہے؟

قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان اپنے دریاؤں کی حفاظت کرے گا۔ پاکستان کی مسلح افواج چوکنا، چوکس اور ہر لمحہ تیار ہیں۔

انہوں نے کہا ہماری فضائی حدود مکمل محفوظ ہیں۔ ہماری سرحدیں ہر خطرے سے محفوظ ہیں۔ پاکستانی قوم کراچی سے خیبر اور لاہور سے لاڑکانہ تک متحد ہے۔

اگر بھارت پاکستان کے ساتھ امن پر بات کرنا چاہتا ہے تو آئے اور سچ کا سامنا کرے۔ اور اگر وہ ایسا نہیں کرتا۔ اپنا پاگل پن اور باولا پن جاری رکھتا ہے تو پھر انہیں یاد رکھنا چاہیئے کہ پاکستانی قوم کسی کے آگے جھکنے والی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا  پاکستان دہشت گردی برآمد نہیں کر رہا بلکہ خود دہشت گردی کا شکار ہے، بھارتی حکومت غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہی ہے، پاکستان قومی نے ڈر کر جینا نہیں سیکھا۔ پہلگام واقعے کے بعد مقتولین کا خون جمنے سے قبل ہی بھارت نے پاکستان پر الزام تراشی شروع کردی، سرحدیں بند کردیں اور نتائج سے دھمکانا شروع کردیا۔

انہوں نے کہا کہ میں پاکستان عوام اور دنیا کو بتانا چاہتا ہوں کہ پاکستان کا اس جرم میں کوئی ہاتھ نہیں ہے، ہم دہشت گردی برآمد نہیں کر رہے بلکہ ہم خود دہشت گردی کا شکار ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ دہشت گردی صرف جسموں پر حملے کا نام نہیں ہے، یہ سچ، امن اور تہذیب پر حملہ ہے، دہشت گردی کسی مارکیٹ میں بم دھماکے یا فائرنگ کرنے کا نام نہیں ہے، بڑھتی ناانصافی پر عالمی خاموشی دہشت گردی ہے، مظلوم کی گردن کو بوٹوں سے دبانے کا نام دہشت گردی ہے، بلڈوزر کے ذریعے گھر کو تاریکی میں بدلنا دہشت گردی ہے، دہشت گردی وہ کرفیو ہے جو گھنٹوں نہیں بلکہ دہائیوں پر محیط ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت دہشت گردی کے خلاف لڑنے کا دعویدار ہے مگر ہم پوچھتے ہیں کہ آپ دہشت گردی سے کیسے لڑ رہے ہیں جب آپ خود کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کے مرتکب ہو، جب آپ مقبوضہ وادی میں خود روزانہ قانون توڑ رہے ہوں تو پھر قانون کی بات کرنا آپ کو زیب نہیں دیتا۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے بھارتی حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے مزید کہا کہ جب آپ کے ہاتھ کشمیری ماؤں کے آنسوؤں، بچوں کی چیخوں اور بے جان مردوں کی خاموشی سے آلودہ ہوں تو آپ اخلاقی برتری کی بات نہیں کرسکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بیرونی حمایت یافتہ، نظریاتی اور انتہائی بے رحمانہ دہشت گردی سے متاثر ہے، ہم نے اپنے فوجی جوانوں اور اسکولوں کے بچوں کو دفنایا ہے، ہم رِستے زخموں کے ساتھ تنہا کھڑے تھے اور دنیا نے ہمیں بُھلا دیا تھا۔

انہوں کہا کہ میں بھارت اور دنیا کو بتانا چاہتا ہوں کہ دہشت گردی کو صرف ٹینکوں سے شکست نہیں دی جاسکتی، اسے صرف انصاف سے ہی شکست دی جاسکتی ہے، دہشت گردی کی جڑیں گولیوں سے ختم نہیں کی جاسکتیں، اسے امید کے ذریعے ہی غیر مسلح کیا جاسکتا ہے، قوموں کو خواب دکھا دہشت گردی ختم نہیں کی جاسکتی بلکہ دہشت گردی سے پیدا ہونے والے تحفظات کو دور کرکے اسے ختم کیا جاسکتا ہے۔

بلاول بھٹو نے بھارتی حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کشمیر میں تشدد کا خاتمہ چاہتے ہیں تو لوگوں کو بات کرنے کا موقع دیں، انہیں سزائیں دینے کے بجائے رائے دہی کا حق دیں، انہیں مسمار نہ کریں مستحکم کریں، الحاق کے بجائے انہیں خودمختاری دیں، امن کا یہی ایک راستہ ہے، کوئی جھوٹ، کوئی گولی، کوئی پابندی سچ کو دبا نہیں سکتی، کشمیر بھارت کا خطہ نہیں ہے بلکہ ایک توڑا ہوا وعدہ ہے، ایک رستا ہوا زخم ہے اور لوگ منتظر ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت چاہتا ہے کہ وہ پاکستان کے 20 کروڑ عوام کو ان دہشت گردوں کے فعل کا ذمے دار ٹھہرائے جن کے وہ اب تک نام بھی نہیں جانتا، جبکہ بھارت کو اب بھی کلبھوشن یادیو کا جواب دینا ہے جس کا نام اور عہدہ بھارتی مسلح افواج کے ریکارڈ کا حصہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت کا پاکستان کو دہشت گردی کا مورد الزام ٹھہرانا ایک کہانی ہے جو تاریخ سے تعلق رکھتی ہے مگر زمینی حقائق سے نہیں، جو کہ خیالات پر مبنی ہے اور حقیقت سے جس کا کوئی تعلق نہیں، بھارت جنوبی ایشیا کا مکاری سے رونے والا بچہ بن چکا ہے۔

سابق وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ پاکستان ثابت کرچکا ہے کہ بھارت دہشت گردی میں ملوث ہے، وہ صرف پراکسیز ہی نہیں بلکہ اپنی مسلح افواج کے ذریعے بھی دہشت گردی میں ملوث ہے، صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ بھارت کے ہاتھ سری لنکا، کینیڈا اور دیگر ممالک کے شہریوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں، بھارت کو اپنی خارجہ پالیسی کا بطور آلہ استعمال روکنا ہوگا۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.