اسپیس ایکس کا اسٹار شپ راکٹ بحر ہند میں منتشر، تیسری آزمائشی پرواز ناکامی سے دوچار
مریخ کی نوآبادیاتی کوششوں میں ایک اور دھچکا، ایلون مسک پُرامید
دنیا کا سب سے طاقتور راکٹ SpaceX Starship اپنی تیسری آزمائشی پرواز میں ایک بار پھر ناکامی کا شکار ہو گیا، جب وہ منگل کے روز زمین کی فضا میں دوبارہ داخل ہوتے وقت بحر ہند کے اوپر منتشر ہو گیا۔ یہ لانچ امریکی ریاست ٹیکساس میں واقع اسپیس ایکس کی اسٹاربیس سہولت سے کیا گیا تھا۔
مقامی وقت کے مطابق شام 6:36 پر لانچ ہونے والا راکٹ ابتدا میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا تھا اور یہ پچھلی دو ناکام پروازوں سے کہیں زیادہ دیر تک خلا میں موجود رہا۔ تاہم، مسائل اس وقت شروع ہوئے جب
سپر ہیوی بوسٹر، جو ابتدائی مرحلہ ہے، خلیج میکسیکو میں ایک کنٹرولڈ سپلیش ڈاؤن کی بجائے پھٹ گیا۔راکٹ کا اوپری مرحلہ، جسے مصنوعی سیارے کی تعیناتی کے لیے پروگرام کیا گیا تھا، اپنے دروازے کھولنے میں ناکام رہا۔تھوڑی ہی دیر میں یہ ایندھن کے اخراج کا شکار ہو کر کنٹرول سے باہر ہو گیا اور گھومنے لگا۔جب اسٹار شپ زمین کی فضا میں دوبارہ داخل ہونے لگی، تو وہ تابکاری اور دباؤ کو برداشت نہ کر سکی اور بحر ہند کے اوپر مکمل طور پر بکھر گئی۔
اسپیس ایکس نے اپنے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے "Rapid Unscheduled Disassembly” یعنی تیز رفتار، غیر متوقع بکھراؤ قرار دیا — ایک اصطلاح جو کمپنی اکثر ناکام مشنز کے لیے استعمال کرتی ہے۔
اسپیس ایکس کے بانی اور سی ای او ایلون مسک نے ناکامی کے باوجود پر امید لہجہ اپناتے ہوئے اعلان کیا”ہم اگلے لانچز کی تیاری کر رہے ہیں اور ہر تین سے چار ہفتے کے وقفے سے نئی پرواز کی کوشش کریں گے۔”
یہ تیسری پرواز امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (FAA) کی جانب سے صرف چار دن قبل اجازت ملنے کے بعد کی گئی تھی۔ اس سے قبل جنوری اور مارچ 2025 میں کیے گئے دونوں تجربات بھی لانچ کے فوراً بعد پھٹنے کی وجہ سے ناکام ہوئے تھے۔
اسٹار شپ کو ایلون مسک کی مریخ پر انسانی بستیاں بسانے کی طویل المدتی حکمت عملی کا مرکزی حصہ سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ اب تک تینوں آزمائشی پروازیں مکمل کامیابی حاصل نہ کر سکیں، لیکن ہر مشن اسپیس ایکس کو راکٹ کے پیچیدہ نظاموں کی بہتری کا موقع فراہم کر رہا ہے کمپنی کو اب بھی امید ہے کہ جلد مکمل اور قابلِ بھروسہ اسپیس فلائٹس ممکن ہوں گی
آسٹن سے تعلق رکھنے والے ٹیک انٹرپرینیور جوشوا ونگیٹ نے اسے سراہتے ہوئے کہا”ہر تجربہ قیمتی اسباق لے کر آتا ہے۔ ہمیں آگے بڑھتے رہنا ہو گا۔”
لانچ سے قبل اسپیس ایکس کی جانب سے مریخ کی نوآبادیات پر ایک لائیو پریزنٹیشن کا اعلان کیا گیا تھا، لیکن تاحال ایلون مسک نے اس کے انعقاد یا ملتوی ہونے پر کوئی وضاحت نہیں دی۔