وزیراعظم شہباز شریف کا کوئٹہ میں قبائلی عمائدین اور معززین شہر سے خطاب۔۔۔
انہوں نے کہا دہشت گرد خون کے پیاسے ہیں جو اغیار کے ایجنٹ ہیں اور پاکستان کی ترقی اور خوشحالی ان کو ایک آنکھ نہیں بھا رہی ہے۔۔ ان کا راستہ اور ان کے ہتھکنڈوں کو آپ نے ناکام بنانا ہے۔۔ اس حوالے سے کیا وہ نقائص ہیں جو آپ کے مشورے سے ہم دور کرسکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ این ایف سی ایوارڈ میں پنجاب نے اپنا حصہ بلوچستان میں ڈالا، بلوچستان کی ڈیمانڈ تھی کہ این ایف سی میں 100 فیصد اضافہ کیا جائے، 11 ارب روپے اس وقت پنجاب نے اپنے حصے سے بلوچستان کے این ایف سی میں ڈالے تب جاکر 2010 میں این ایف سی سائن ہوا۔
انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے زمانے میں بلوچستان میں بے پناہ ترقی ہوئی جب کہ آئندہ بجٹ میں ایک ہزار ارب ترقیاتی بجٹ میں سے 250 ارب روپے صرف بلوچستان کے لیے ہیں، کوشش ہونی چاہیے کہ ترقیاتی پروگرام کے یہ فنڈ شفافیت کے ساتھ خرچ ہوں گے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چند ماہ پہلے دنیا بھر میں تیل کی قیمتیں گریں اور 10 روپے کا فائدہ پیٹرول اورڈیزل کی قیمت میں ہو ا جو ڈیڑھ ارب روپے بنتا تھا، جو ہم نے خونی شاہراہ کے نام سے مشہور این-25 کی اپ گریڈیشن کے لیے مختص کردیے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا وسیع علاقہ سرمایہ کاری کے حجم میں اضافے کا متقاضی ہے، جغرافیائی آپ کے فاصلے اتنے ہیں کہ ان کے اوپر اربوں کھربوں بھی لگائے جائیں تو وہ فاصلے سمٹ نہیں سکتے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ آپ کے گلے شکوے ہوں گے لیکن یہ جو دہشت گرد ہیں، ان کو نہ آپ برداشت کرسکتے ہیں اور نہ میں، نہ افواج پاکستان اور نہ کوئی اور کرسکتا ہے لہذا جو لوگ بھٹک چکے ہیں، ان کو ہم سب نے ملکر واپس لانا ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ میں یقین دلاتا ہوں میری حکومت میں بلوچستان کے ساتھ معاشی یا سماجی ناانصافی کا کوئی تصور نہیں کرسکتا ہے، ترقی اور خوشحالی اور بدامنی اکھٹے نہیں چل سکتی۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان جب ایٹمی قوت بنا تو دنیا نے دیکھا پاکستان نے بھارت کے 5 دھماکوں کے بدلے میں 6 دھماکے کرکے ان کے اوسان خطا کیے اور وہ عزت اللہ نے نواز شریف کو دی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان بننے کے بعد کوئٹہ میں آپ کے بڑے اکٹھے ہوئے اور انہوں نے قائداعظم کی قیادت کا تسلیم کیا اور بلوچستان کو پاکستان کاحصہ بنانے کا اعلان کیا، میں نے ایک مرتبہ نہیں، کئی مرتبہ بڑے بھائی کے آواز کے ساتھ آواز ملاکر یہ کہا کہ بلوچستان پاکستان کا خوبصورت صوبہ ہے جہاں کے لوگ دلیر لوگ ہیں لیکن کیا وہ وجہ ہے جس کی وجہ سے کوئی شکوہ ہے تو وہ بھائی بن کر بیٹھ کر طے کرنا چاہیے۔