اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس جمعہ کو ایران-اسرائیل تنازع پر طلب
نیویارک — اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) جمعہ 20 جون کو ایران اور اسرائیل کے درمیان تیزی سے بگڑتے ہوئے تنازعے پر غور کے لیے ہنگامی اجلاس طلب کر رہی ہے، جس کا مقصد خطے میں بین الاقوامی امن اور سلامتی کو لاحق خطرات پر بحث کرنا ہے۔
یہ اجلاس ایران کی باضابطہ درخواست پر بلایا گیا ہے جسے روس، چین، اور پاکستان کی حمایت حاصل ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق، یہ ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں دوسرا ہنگامی اجلاس ہوگا، جو مشرق وسطیٰ کے بحران کی شدت اور اس کے عالمی اثرات کی نشاندہی کرتا ہے۔
اس وقت گیانا سلامتی کونسل کی صدارت سنبھالے ہوئے ہے، اور اس نے اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ "جمعہ کو منعقد ہونے والے اجلاس میں تمام رکن ممالک شرکت کریں گے اور تنازعے کے بڑھتے ہوئے خطرات اور ممکنہ بین الاقوامی اقدامات پر غور کیا جائے گا۔”
گزشتہ دنوں میں میزائل حملے، سائبر حملے، اور اعلیٰ فوجی شخصیات کی ہلاکت نے ایران-اسرائیل کشیدگی کو نئے خطرناک موڑ پر پہنچا دیا ہے، جس کے بعد عالمی سطح پر شدید تشویش پائی جا رہی ہے
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس پہلے ہی کشیدگی پر اپنی "گہری تشویش” کا اظہار کر چکے ہیں۔ انہوں نے فریقین پر زور دیا ہے کہ”سفارت کاری کی طرف فوری واپسی اختیار کریں اور بین الاقوامی قوانین کا مکمل احترام کریں۔”
انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی مزید فوجی کارروائی سے نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر سلامتی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
موجودہ صورتحال میں ایران اور اسرائیل کے درمیان تازہ فضائی و میزائل حملے جاری ہیں۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر سیاسی و عسکری اہداف کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا ہے۔بین الاقوامی برادری معاملے کو سفارتی طریقے سے حل کرنے کے لیے زور دے رہی ہے۔
سلامتی کونسل کا اجلاس اس تناظر میں اہم سفارتی موڑ ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر اگر عالمی طاقتیں کسی قرارداد یا ثالثی منصوبے پر متفق ہو سکیں۔