اسرائیلی عدالت نے نیتن یاہو کے خلاف کرپشن مقدمہ مؤخر کرنے کی درخواست مسترد کر دی
یروشلم – اسرائیلی عدالت نے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے خلاف زیرِ سماعت کرپشن کیس کو مؤخر کرنے کی وکلائے دفاع کی درخواست کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ عدالت کا مؤقف تھا کہ التوا کی کوئی قابل قبول قانونی بنیاد فراہم نہیں کی گئی۔
یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دو روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی نیتن یاہو کے حق میں بیان دیتے ہوئے اس مقدمے کو سیاسی حملہ قرار دیا تھا اور اس کی فوری منسوخی یا صدارتی معافی کی حمایت کی تھی۔
نیتن یاہو پر 2019 سے جاری تین علیحدہ کیسز میں رشوت ستانی، اعتماد کی خلاف ورزی، اور فراڈ جیسے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اسرائیل کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ برسرِاقتدار وزیراعظم پر کرپشن کا مقدمہ اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھ رہا ہے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ”وکلائے صفائی مقدمہ مؤخر کرنے کے لیے ٹھوس شواہد یا قانونی جواز پیش نہیں کر سکے۔ اس لیے کارروائی بغیر تاخیر کے جاری رکھی جائے گی۔”
یہ فیصلہ اسرائیلی عدالتی نظام کی خودمختاری اور سیاسی دباؤ سے عدم مرعوبیت کا مظہر سمجھا جا رہا ہے۔
اس فیصلے سے چند دن قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک پریس بریفنگ اور سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا تھا”یہ ناقابلِ تصور ہے کہ جنگ کے دوران ایک اسرائیلی وزیراعظم کا ٹرائل کیا جا رہا ہے۔ نیتن یاہو کو معافی دی جانی چاہیے۔ وہ ایک عظیم ہیرو ہیں جنہوں نے ایران جیسے دشمن کے خلاف جرات مندی سے قیادت کی۔”
ٹرمپ نے مقدمے کو "سیاسی طور پر متحرک وِچ ہنٹ” قرار دیا اور کہا کہ”نیتن یاہو پر غیر منصفانہ الزامات لگائے گئے تاکہ ان کی ساکھ اور قیادت کو کمزور کیا جا سکے۔”
نیتن یاہو نے اپنے خلاف تمام الزامات کو "جھوٹا اور سیاسی طور پر محرک” قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ”یہ میری سیاسی قیادت کو کمزور کرنے کی ایک کوشش ہے۔ میں اسرائیل کے عوام کے سامنے سرخرو ہوں گا۔”