فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے 10 مئی 2025 کو بھارت کو وہ سبق سکھایا ہے جو ساری زندگی نہیں بھولے گا۔۔ پاک بحریہ کی پی این ایس رہبر پاسنگ آؤ ٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا معرکہ حق بھارت کی یادداشت سے کبھی ختم نہیں ہوگا اور ہم کسی بھی قیمت پر اپنی دھرتی کے تحفظ کے لیے تیار ہیں جب کہ مسلح افواج کے بھارت کو پرعزم جواب سے قومی وقار مضبوط ہوا۔
انہوں نے کہا پاکستان کے لیے ایک مضبوط اور موثر میری ٹائم فورس برقرار رکھنا ناگزیر ہو چکا ہے۔۔ ہمارے دشمن (بھارت) متکبرانہ اور جارحانہ رویے کا مسلسل مظاہرہ کر رہا ہے۔۔بھارت اپنی فوجی طاقت، قوم پرستی، اور جعلی اسٹریٹجک اہمیت سے سیاسی فوائد حاصل کرنا چاہتا ہے۔۔ گزشتہ چند برسوں میں بھارت نے دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے بہانے دو بار پاکستان پر بلاوجہ حملے کیے۔۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا دونوں مواقع پر، پاکستان کے بھرپور اور مؤثر جواب سے پورے خطہ ایک بڑے تنازعے سے بچا لیا گیا۔۔ بھارت کی اشتعال انگیزیوں کے باوجود، پاکستان نے صبر و تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے امن کو ترجیح دی۔۔ آج پاکستان خطے میں ” نیٹ ریجنل سٹیبلائزر” کے طور پر جانا جاتا ہے۔۔
انہوں نے کہا کہ اگر دشمن یہ سمجھے کہ آئندہ پاکستان اپنی خودمختاری پر حملے کو برداشت کرے گا، تو یہ ایک خطرناک غلط فہمی ہوگی۔۔ ہم اپنی قومی طاقت میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں، اور اگر کوئی دشمن یہ سمجھے کہ پاکستان کمزور ہے یا جواب نہیں دے گا، تو وہ سخت غلطی پر ہے۔۔۔
فیلڈ مارشل نے کہا اگر کوئی دشمن ہماری خودمختاری کو چیلنج کرتا ہے، تو اس کے نتائج کی ذمہ داری اسی پر ہوگی، اور وہ پورے خطے کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے۔۔پاکستان ہر حال میں اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کا دفاع کرے گا، اور اس میں کسی قسم کی جھجک نہیں دکھائے گا۔۔
آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس موقع پر سورہ بقرہ کی آیت 249 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ؛
اللہ فرماتا ہے !
"کتنی ہی بار ایسا ہوا کہ تھوڑی سی تعداد نے اللہ کے حکم سے بڑی تعداد کو شکست دی۔ اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔” (سورۃ البقرہ، آیت 249)
انہوں نے کہا ہمارا قومی جذبہ آزمائشوں کے دوران اور بھی مضبوط ہوا ہے ، آج ہم پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور پُرعزم ہیں۔۔ جب پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ میں کامیابی کے قریب ہے، تو بھارت جان بوجھ کر خطے میں کشیدگی پیدا کر رہا ہے۔۔ ہم دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ کو مکمل کامیابی تک پہنچائیں گے اور ملک کو اس سے ہمیشہ کے لیے نجات دلائیں گے۔۔
آرمی چیف نے اپنے خطاب میں کہا ایسے وقت میں ہمیں کشمیری بھائیوں کی قربانیوں کو ضرور یاد رکھنا چاہیے، جو بھارت کے غیر قانونی قبضے کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں۔۔پاکستان اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق، مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کا پُرزور حامی ہے۔۔ بھارت جس جدوجہد کو "دہشت گردی” کہتا ہے، وہ دراصل ایک جائز اور قانونی آزادی کی جدوجہد ہے، جسے بین الاقوامی قوانین بھی تسلیم کرتے ہیں۔۔
آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سورہ ال عمران کی آیت 54 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ؛
اللہ تعالی فرماتا ہے:
"انہوں نے چالیں چلیں، اور اللہ نے بھی تدبیر کی، اور بہترین تدبیر کرنے والا اللہ ہے۔”
(سورہ آلِ عمران، آیت 54)
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا دنیا کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ جب تک مسئلہ کشمیر کا منصفانہ اور پُرامن حل نہیں نکلتا، جنوبی ایشیا میں کبھی پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا۔۔میں ان تمام شہداء کو سلام پیش کرتا ہوں جو مقبوضہ جموں و کشمیر میں حقِ خودارادیت کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔۔۔میں خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں ان بہادر کشمیریوں کوجو آج بھی آزادی کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔۔بھارت کی ظالم حکومت کشمیریوں کی ہمت اور حوصلے کو کبھی پست نہیں کر سکتی۔۔پاکستان ہمیشہ کشمیریوں کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت کرتا رہے گا۔۔
انہوں نے کہا پاکستان کے دشمن مسلسل ہماری ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن ہمارا ترقی کا سفر جاری ہے۔۔ پاکستان ایک روشن مستقبل کی طرف گامزن ہے
آرمی چیف نے کہا ’میری ٹائم واریئرز‘ کی شاندار پاسنگ آؤٹ پریڈ کا معائنہ کرنا میرے لیے اعزاز ہے۔۔آج کی پریڈ میں کیڈیٹس کا مثالی ٹرن آؤٹ اور پرجوش انداز پاکستان نیول اکیڈمی کے اعلیٰ معیار کا مظہر ہے۔۔ کامیاب کیڈیٹس کے پُر اعتماد انداز میں ہماری قوم کی امیدیں اور توقعات سمٹ آئی ہیں۔۔ایوارڈ جیتنے والے کیڈٹس اپنی شاندار کامیابیوں پر خصوصی تعریف کے مستحق ہیں۔۔
انہوں نے کہا میں دوست ممالک ترکی، بحرین، عراق، فلسطین اور جبوتی کے کیڈٹس کو تربیت مکمل کرنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پاس آؤٹ ہونے والے مڈ شپ مین اور کیڈٹس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ؛ "آپ پاک بحریہ کا حصہ بننے جا رہے ہیں، جس کی پہچان اعلی عسکری اخلاقیات، غیر معمولی مہارت اور بے مثال پیشہ ورانہ روایات ہیں”
میں آپ کو تلقین کرتا ہوں کہ اپنی آپریشنل صلاحیتوں کو مزید بہتر اور مضبوط بنانے کے لیے کوششیں جاری رکھیں،
۔بحری جنگ کا میدان تیزی سے تبدیل ہو رہا ہےاور ہمیں اس سے ہم آہنگ ہونا ہوگا