ایئر انڈیا طیارہ حادثہ: کاک پٹ میں فیول سوئچز بند ہونے سے دونوں انجن بند ہو گئے، ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ

احمد آباد حادثے میں 260 افراد کی ہلاکت، بھارت میں تین دہائیوں کا بدترین فضائی سانحہ
گزشتہ ماہ احمد آباد میں پیش آنے والے ایئر انڈیا کے المناک فضائی حادثے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ طیارے کے دونوں انجنوں کے فیول کنٹرول سوئچز اڑان بھرنے کے چند سیکنڈ بعد "کٹ آف” پوزیشن میں منتقل ہو گئے، جس کے نتیجے میں انجن بند ہو گئے اور طیارہ تیزی سے نیچے گر کر تباہ ہو گیا۔

یہ سانحہ 12 جون کو پیش آیا، جب فلائٹ AI171، جو احمد آباد سے لندن ہیتھرو جا رہی تھی، ہوائی اڈے کے قریب ایک گھنے رہائشی علاقے پر گر گئی۔ طیارے میں سوار 242 میں سے 241 افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ زمین پر موجود 19 افراد بھی ہلاک ہو گئے۔ یہ حادثہ بھارت کی تین دہائیوں کی سب سے بڑی فضائی تباہی قرار دیا جا رہا ہے۔

بھارت کے ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو (AAIB) کی رپورٹ کے مطابق، فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر نے ظاہر کیا کہ پرواز کے محض چند سیکنڈ بعد، کاک پٹ میں موجود فیول کنٹرول سوئچز "کٹ آف” پوزیشن میں منتقل ہوئے، جس کے باعث دونوں انجنوں کو ایندھن کی فراہمی اچانک بند ہو گئی۔

وائس ریکارڈر میں پائلٹوں کے درمیان درج ذیل مکالمہ ریکارڈ ہوا.

پہلا پائلٹ: "تم نے بند کیوں کیا؟”
دوسرا پائلٹ: "میں نے نہیں کیا۔”

چند ہی لمحوں بعد، طیارے کی طاقت اور بلندی ختم ہونے لگی، اور ایک ایمرجنسی "Mayday” کال فضائی ٹریفک کنٹرول کو بھیجی گئی۔ طیارہ ایئرپورٹ کی حدود سے کچھ فاصلے پر ایک رہائشی علاقے میں جا گرا۔

تحقیقات کے مطابق، عملے نے سوئچز دوبارہ آن کرنے کی کوشش کی، اور ایک انجن نے کچھ لمحوں کے لیے کام بھی شروع کیا، لیکن طیارہ اتنی بلندی اور رفتار کھو چکا تھا کہ وہ دوبارہ قابو میں نہیں آ سکا۔

رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ دونوں میں سے کس پائلٹ نے سوئچز بند کیے، اور حتمی "Mayday” کال کس کی طرف سے کی گئی۔

اس ابتدائی رپورٹ نے کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے

  • کیا یہ انسانی غلطی تھی یا کسی نظامی خرابی کا نتیجہ؟
  • پائلٹس نے سوئچز کیوں یا کیسے بند کیے؟
  • اور کیا اس حادثے کو روکا جا سکتا تھا؟

ایوی ایشن ماہرین اور متاثرہ خاندانوں نے مکمل اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ حکومت نے اس واقعے کی اعلیٰ سطحی انکوائری کا وعدہ کیا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے