ہندوتوا پالیسیوں سے آسام اور ناگا لینڈ میں نسلی کشیدگی میں خطرناک اضافہ

نئی دہلی :بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی حکومت کی ہندوتوا پر مبنی پالیسیوں نے آسام اور ناگا لینڈ جیسے شمال مشرقی بھارتی ریاستوں میں فرقہ وارانہ اور نسلی کشیدگی کو بڑھا دیا ہے۔ جولائی 2025 کے آغاز میں آسام کی بی جے پی حکومت کی جانب سے مسلم مخالف جبری بے دخلی مہم کے نتیجے میں ناگا لینڈ میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

آسام کے دھوبڑی، گولپاڑا اور نلباری جیسے اضلاع میں کی گئی انہدامی کارروائیوں سے کم از کم 10 ہزار بنگالی نژاد مسلمان متاثر ہوئے ہیں، جو کئی دہائیوں سے ان علاقوں میں مقیم تھے۔ دی نیو انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، ان متاثرہ خاندانوں کے ناگا لینڈ میں ممکنہ داخلے پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

ناگا لینڈ کے ضلع مونس میں کونیاک اسٹوڈنٹس یونین نے داخلی راستوں پر 100 سے زائد رضا کار تعینات کر دیے ہیں جو روزانہ کی بنیاد پر نگرانی اور دستاویزات کی جانچ کریں گے۔ تنظیم نے بغیر انر لائن پرمٹ یا شناختی کاغذات رکھنے والے افراد کو فوری طور پر واپس بھیجنے کی ہدایت دی ہے۔

کونیاک اسٹوڈنٹس یونین کے مطابق، "ہم مونس ضلع میں کم از کم ایک ماہ کے لیے انر لائن پرمٹ جاری کرنے پر پابندی کا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ مقامی لوگوں کی سلامتی یقینی بنائی جا سکے۔” اسی طرح، ویسٹرن سُمی اسٹوڈنٹس یونین نے بھی سرحدی علاقوں میں غیر قانونی تارکین وطن کی موجودگی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما کا کہنا ہے کہ اب تک 1.29 لاکھ بیگھا زمین "تجاوزات” سے خالی کروائی گئی ہے اور یہ مہم جاری رہے گی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، بی جے پی حکومت کی پالیسیوں نے نہ صرف ریاستی سطح پر بحران کو جنم دیا ہے، بلکہ پورے شمال مشرقی بھارت کو نسلی تنازعات اور فرقہ وارانہ کشیدگی کے خطرناک دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے