وفاقی حکومت کا بڑا فیصلہ۔۔ ملک بھر میں سیلاب، مون سون بارشوں اور لینڈسلائیڈنگ سے جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین کو فی کس 20 لاکھ روپے معاوضہ ادا کیا جائے گ۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطاءاللہ تارڑ نے کہا کہ تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ ایک ہی وقت میں تین سے چار سسٹم ایک ساتھ آئے جس کے باعث بارشیں معمول سے زیادہ ہوئی اور وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی۔۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے ساتھ ہی خبردار کردیا کہ غیرقانونی تعمیرات کے گرنے پر معاوضہ نہیں ملے گا۔۔ جو لوگ آبی گزرگاہوں میں رہتے ہیں انہیں نقصانات کا معاوضہ ادا کرنا ممکن نہیں ہوگا۔
وزیرآباد میں صحافیوں سے گفتگو میں وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے طے کیا ہے کہ آئندہ سے آبی گزرگاہوں میں کسی قسم کی تعمیرات کی اجازت نہیں ہوگی۔ سیلاب سے متاثرہ لوگوں کے گھروں، فصلوں اور مال مویشی کے نقصانات کا سروے کیا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا 3 دریاؤں کی طغیانی میں 2 لاکھ سے زائد افراد کو ریسکیو کیا گیا، پاک فوج اور انتظامیہ نے بروقت رسپانس دے کر کئی افراد کو بچایا۔
