لاہور : قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ پنجاب میں بارشوں اور سیلابی صورتحال کے دوران اب تک 28 اموات رپورٹ ہوچکی ہیں۔
پنجاب کے دریاؤں میں غیر معمولی سیلاب کے حوالے سے جمعے کو ڈی جی پی ڈی ایم اے پنجاب کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ ستلج میں 1955 کے بعد پہلی مرتبہ ایسی صورتحال دیکھنے کو ملی ہے۔
ان کے مطابق ’یہ سارا پانی انڈیا میں بند توڑنے کے سبب قصور کی طرف بڑھا ہے۔ ہمیں قصور کو بچانے کے لیے موجود بند میں سوراخ کرنا پڑ رہا ہے۔‘
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے متنبہ کیا کہ ’ہیڈ سلیمانکی کے بعد ہیڈ اسلام کو خطرہ درپیش ہوگا۔ پانی جب بہاولپور سے ہوتا ہوا پنجند جائے گا تب خطرہ ٹلے گا۔‘
پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق ’تریموں میں پانی بڑھ رہا ہے تاہم امید ہے کہ کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ ہمیں شدید متاثر علاقہ کو بچانا ہے۔ جھنگ، شور کوٹ پر شگاف ڈالنے سے معاملہ بہتر ہوا ہے۔
اعلامیے کے مطابق سیلابی ریلے سے متاثرہ اردگرد کے تمام علاقوں میں رہائشیوں کے انخلا کا سلسلہ جاری ہے، ہر گھنٹے میں اعداد و شمار تبدیل ہو رہے ہیں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے متنبہ کیا کہ اوکاڑہ پاکپتن اور ملحقہ علاقوں کے لیے اب مسائل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
