اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں ملبہ صاف کرنے کے آلات کے بغیر واپس نہیں کی جا سکتیں: حماس

Hamas claims it can’t return remaining hostages’ bodies without equipment to clear rubble

غزہ / یروشلم – فلسطینی تنظیم حماس نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ یرغمال بنائے گئے اسرائیلی شہریوں کی لاشیں فوری طور پر واپس نہیں کر سکتی کیونکہ وہ اسرائیلی حملوں سے تباہ شدہ سرنگوں اور عمارتوں کے ملبے تلے دبی ہوئی ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق، حماس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ لاشوں کی بازیافت کے لیے بھاری مشینری اور ملبہ ہٹانے کے آلات درکار ہیں، تاہم اسرائیل کی جانب سے ان آلات کے غزہ میں داخلے پر پابندی عائد ہے، جس کے باعث یہ عمل فی الحال ممکن نہیں۔

حماس کے مطابق، تنظیم غزہ معاہدے پر عمل درآمد کے لیے پرعزم ہے اور تمام باقی ماندہ یرغمالیوں کی لاشیں واپس کرنے کی خواہش رکھتی ہے، لیکن تاخیر کی ذمہ داری اسرائیلی حکام پر عائد ہوتی ہے۔

اسرائیلی حکومت نے اب تک حماس کے اس تازہ دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔ تاہم اسرائیل ماضی میں متعدد بار کہہ چکا ہے کہ حماس لاشوں کو سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔

یاد رہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے دوران درجنوں اسرائیلی شہری اور فوجی اہلکار اغوا کیے گئے تھے، جن میں سے کئی کی ہلاکت کی تصدیق بھی ہو چکی ہے۔ دونوں فریقین کے درمیان لاشوں کے تبادلے کے حوالے سے مذاکرات کا سلسلہ اقوام متحدہ اور مصر کی ثالثی میں جاری ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے