مصر نومبر میں غزہ کی جلد بحالی کانفرنس منعقد کرے گا
قاہرہ — مصر نے نومبر میں قاہرہ میں غزہ کی جلد بحالی اور تعمیرِ نو کے حوالے سے بین الاقوامی کانفرنس منعقد کرنے کی تیاریاں تیز کر دی ہیں۔ اس سلسلے میں مصری حکومت عالمی طاقتوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ غزہ کی تعمیرِ نو اور ترقیاتی منصوبوں کو عملی شکل دی جا سکے۔
مصری وزیرِ خارجہ بدر عبد اللطیف نے پیر کے روز اپنے فرانسیسی ہم منصب جین نول بیروٹ اور ڈنمارک کے وزیرِ خارجہ لارس لوککے راسموسن سے ٹیلی فونک گفتگو کی۔ اس دوران غزہ میں جلد بحالی، تعمیر نو، اور آئندہ کانفرنس کی تیاریوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
عبد اللطیف نے زور دیا کہ غزہ کی تعمیر نو کے منصوبوں کو فوری طور پر شروع کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات ایک جامع وژن کا حصہ ہیں جو فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ اور عرب-اسلامی مشترکہ منصوبے کے ساتھ ساتھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کے اصولوں سے مطابقت رکھتے ہیں۔
مصری وزیرِ خارجہ نے یورپی ممالک پر زور دیا کہ وہ کانفرنس میں فعال کردار ادا کریں اور تعمیر نو کے منصوبوں میں مالی و تکنیکی تعاون فراہم کریں۔
فرانسیسی اور ڈنمارک کے وزرائے خارجہ نے یقین دہانی کرائی کہ وہ غزہ کی بحالی کے عمل اور کانفرنس کی کامیابی کے لیے مصر کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھیں گے۔
ذرائع کے مطابق، عبد اللطیف نے اس سے قبل بھی اٹلی، اسپین، جرمنی، کینیڈا اور الجزائر کے وزرائے خارجہ سے رابطے کیے تھے تاکہ کانفرنس کی تیاریوں کو بین الاقوامی سطح پر مربوط بنایا جا سکے۔
مصری کونسل برائے امورِ خارجہ کے رکن ڈاکٹر احمد فواد انور نے کہا کہ قاہرہ فلسطینی عوام کی نقل مکانی روکنے کے لیے پُرعزم ہے، اور یہ کانفرنس اسی مقصد کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔ ان کے بقول، “مصر تباہ شدہ غزہ میں فلسطینی عوام کو امید اور سہارا دینے کی کوشش کر رہا ہے۔”
صدر عبدالفتاح السیسی نے اتوار کے روز اعلان کیا تھا کہ نومبر میں کانفرنس قاہرہ میں منعقد کی جائے گی۔ انہوں نے مصری عوام سے اپیل کی کہ وہ تعمیرِ نو کے عمل میں بھرپور حصہ لیں، جبکہ وزیراعظم کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ سول سوسائٹی، بین الاقوامی تنظیموں اور ڈونرز کے ساتھ مل کر ایک عطیات جمع کرنے کا پلیٹ فارم قائم کریں تاکہ بحالی کے منصوبوں کے لیے مالی وسائل اکٹھے کیے جا سکیں۔