قندیل، عراق – کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) نے اعلان کیا ہے کہ وہ ترک حکومت کے ساتھ امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے اپنے جنگجوؤں کو ترکی سے شمالی عراق واپس بلا رہی ہے۔
یہ اعلان اتوار کے روز شمالی عراق کے قندیل پہاڑوں میں جاری ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا گیا۔ پی کے کے کے سیاسی و عسکری اتحاد کردستان کمیونٹیز یونین کے سینئر رکن صابری اوک نے کہا کہ تنظیم نے فیصلہ کیا ہے کہ ترکی میں موجود تمام جنگجو واپس بلائے جائیں تاکہ کسی بھی ممکنہ جھڑپ یا اشتعال انگیزی سے بچا جا سکے۔
صابری اوک کے مطابق، ’’یہ اقدام خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ عمل ترکی اور کرد عوام کے درمیان اعتماد سازی کا ذریعہ بنے۔‘‘
یہ اعلان مہینوں بعد سامنے آیا ہے جب پی کے کے نے ایک علامتی تخفیفِ اسلحہ تقریب میں اپنے چند جنگجوؤں کو ہتھیار ڈالنے کا عمل شروع کروایا تھا۔
پی کے کے نے 1980 کی دہائی سے ترکی میں خودمختاری اور حقوق کے حصول کے لیے مسلح بغاوت شروع کر رکھی ہے، جس کے نتیجے میں اب تک دسیوں ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
کرد تنظیم کا کہنا ہے کہ جنگجوؤں کی واپسی امن مذاکرات کے تسلسل کے لیے ضروری ہے، جبکہ ترکی کی حکومت کی جانب سے اس اعلان پر ابھی کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا۔
