کیمرون میں انتخابی نتائج سے قبل مظاہرے، فائرنگ سے 4 افراد ہلاک — اپوزیشن کا دعویٰ

کیمرون میں انتخابی نتائج سے قبل مظاہرے، فائرنگ سے 4 افراد ہلاک — اپوزیشن کا دعویٰ

دوالا- کیمرون کے تجارتی مرکز دوالا میں اتوار کے روز صدارتی انتخابات کے نتائج کے اعلان سے قبل ہونے والے مظاہروں کے دوران سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے کم از کم چار افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ دعویٰ حزبِ اختلاف کے صدارتی امیدوار عیسیٰ چیروما کی مہم ٹیم نے کیا ہے۔

چیروما، جو طویل عرصے سے اقتدار پر قابض صدر پال بیا کے مقابل امیدوار ہیں، نے اپنے حامیوں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ 12 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات کے نتائج کے احترام کے لیے سڑکوں پر نکلیں۔

مظاہرے اُس وقت پرتشدد ہو گئے جب سیکورٹی اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی۔ نیو بیل کے علاقے میں ہونے والے احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جن میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔

عینی شاہدین کے مطابق، مظاہرین ’’ووٹ کا احترام کرو‘‘ اور ’’بیا کو جانا ہوگا‘‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔

کیمرون کے سرکاری ترجمان نے ہلاکتوں کی تصدیق یا تردید سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ حکومت انتخابی عمل کو ’’پرامن‘‘ رکھنے کے لیے پرعزم ہے اور کسی بھی غیر قانونی اجتماع کی اجازت نہیں دے گی۔

بین الاقوامی مبصرین کے مطابق، انتخابی عمل میں شفافیت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جب کہ اپوزیشن نے کئی حلقوں میں دھاندلی کے الزامات لگائے ہیں۔

کیمرون میں 91 سالہ صدر پال بیا 1982 سے اقتدار میں ہیں، اور ان کا طویل دورِ حکومت افریقہ میں سب سے زیادہ عرصے تک جاری رہنے والوں میں شمار ہوتا ہے۔
حزبِ اختلاف کا کہنا ہے کہ اس بار عوامی ووٹ نے تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے، لیکن سرکاری نتائج پر ’’سیاسی اثر و رسوخ‘‘ کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے