امریکہ میں اسرائیل پر تنقید کی سزا؟ برطانوی صحافی سمیع حمدی کو ICE نے حراست میں لے لیا

ICE detains British journalist after criticism of Israel on US tour

واشنگٹن / سان فرانسسکو — امریکی امیگریشن حکام (ICE) نے برطانوی صحافی سمیع حمدی کو سان فرانسسکو ایئرپورٹ سے حراست میں لے لیا۔
اسلامی تنظیم کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز (CAIR) کا کہنا ہے کہ حمدی کو اسرائیل کی غزہ میں فوجی کارروائیوں پر تنقید کے باعث انتقامی طور پر روکا گیا، جو اظہارِ رائے کی آزادی کی صریح خلاف ورزی ہے۔

کیئر نے ایک بیان میں کہا کہ “حمدی کو صرف اس لیے روکا گیا کیونکہ انہوں نے ایک غیر ملکی حکومت پر تنقید کی تھی جس پر کیئر نے نسل کشی کے الزامات لگائے ہیں۔”
تنظیم کے مطابق، ان کے وکلا اس ’’ناانصافی‘‘ کے خاتمے کے لیے قانونی چارہ جوئی کر رہے ہیں، اور امریکی حکام سے فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

امریکی ہوم لینڈ سیکیورٹی کی ترجمان ٹریسیا میک لافلن نے اپنے بیان میں کہا “سمیع حمدی کا ویزا منسوخ کیا جا چکا ہے اور وہ ملک بدری کے لیے ICE کی تحویل میں ہیں۔ جو لوگ دہشت گردی کی حمایت کرتے ہیں یا امریکی قومی سلامتی کو نقصان پہنچاتے ہیں، انہیں اس ملک میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ٹرمپ کی قریبی اتحادی اور خود کو "فخر اسلامو فوب” کہنے والی لورا لومر نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا کہ حمدی کی گرفتاری اُن کے دباؤ کا نتیجہ ہے۔
لومر نے لکھا “میری مسلسل کوششوں کے باعث امریکی حکام نے بالآخر حمدی کے ویزا کے خلاف کارروائی کی ہے۔”

یہ وہی لورا لومر ہیں جنہوں نے 2018 میں اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر پابندی کے خلاف نیو یارک میں ٹویٹر کے دفتر کے باہر خود کو زنجیروں سے باندھ لیا تھا۔ بعدازاں ایلون مسک کے ٹویٹر خریدنے کے بعد ان کا اکاؤنٹ بحال کر دیا گیا۔

سمیع حمدی امریکہ میں اپنے تقریری دورے پر تھے اور ہفتے کو کیئر کے سیکرامنٹو چیپٹر کے سالانہ گالا میں خطاب کر چکے تھے۔ اتوار کو وہ فلوریڈا میں ایک اور تقریب میں شریک ہونا چاہتے تھے۔

رپورٹس کے مطابق، حمدی ان غیر ملکی صحافیوں میں تازہ ترین ہیں جنہیں پالیسٹینی حامی مؤقف رکھنے پر امریکی حکام نے حراست میں لیا یا ملک بدر کیا۔ اس سے قبل ایل سلواڈور کے صحافی ماریو گوئیرا کو بھی پالیسٹین حامی مظاہروں کی لائیو کوریج کے بعد ملک بدر کر دیا گیا تھا۔

ستمبر میں ایک وفاقی جج نے ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی کو آئین کے آرٹیکل 1 کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ “یہ پالیسی آزادی اظہار کے حقوق کو ٹھنڈا کرنے کے لیے دانستہ طور پر بنائی گئی ہے۔”

تاہم امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ ویزا منسوخی کی کارروائیاں بدستور جاری رہیں گی۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کیس کی اپیل سپریم کورٹ میں جا سکتی ہے، جہاں اس وقت قدامت پسند اکثریت پائی جاتی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے