غزہ میں نیتن یاہو کے حکم پر اسرائیلی حملوں کی نئی لہر،بچوں اور خواتین سمیت 50 فلسطینی شہید، 150 سے زائد زخمی

غزہ میں ہلاکتوں کی تصدیق شدہ تعداد 70 ہزار سے تجاوز کر گئی، ملبے سے مزید لاشیں برآمد

غزہ – غزہ میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے حکم پر اسرائیلی فورسز نے فضائی حملوں کی نئی لہر شروع کر دی ہے، جس کے نتیجے میں 50 فلسطینی شہید اور 150 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔

حماس کے زیر انتظام غزہ ایمرجنسی ایجنسی کے مطابق، اسرائیلی حملوں نے رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا۔
ایجنسی کے ترجمان محمود بسال نے بتایا کہ “گزشتہ رات سے جاری اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 50 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 22 بچے اور متعدد خواتین شامل ہیں۔”

انہوں نے غزہ کی صورتحال کو "تباہ کن اور خوفناک” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی کی ہے، جس کے نتیجے میں 200 کے قریب افراد زخمی ہوئے ہیں۔

اسرائیلی حکام کے مطابق حملے اس وقت شروع کیے گئے جب حماس نے جنگ بندی کی متعدد بار خلاف ورزیاں کیں، جن میں رفاہ میں ایک اسرائیلی فوجی کی ہلاکت اور یرغمالیوں کی 13 لاشوں کی واپسی میں ناکامی شامل ہے۔
اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ “حماس کو زیادہ تر لاشوں کی جگہ کا علم ہے مگر وہ سیاسی دباؤ بڑھانے کے لیے تاخیر کر رہی ہے۔”

فلسطینی تنظیم حماس نے اسرائیلی الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ “لاشوں کی حوالگی میں تاخیر کی واحد وجہ اسرائیل کی مسلسل خلاف ورزیاں ہیں۔”

حماس کے ترجمان نے کہا کہ تحریک جنگ بندی معاہدے پر قائم ہے، تاہم اسرائیلی بمباری نے صورتحال کو انتہائی سنگین بنا دیا ہے۔
انہوں نے ثالثی کرنے والے ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالیں تاکہ حملے فوری طور پر روکے جائیں اور لاشوں کی تلاش کے لیے بھاری سازوسامان فراہم کیا جائے۔

عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے غزہ میں بڑھتے ہوئے جانی نقصان پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے نمائندوں نے اسرائیل اور حماس دونوں پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ بندی کی پاسداری کریں تاکہ انسانی بحران مزید نہ بڑھے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے