ٹرمپ کا کہنا ہے: “میں جنوبی کوریا کینیڈا سے ملنے نہیں آیا”

ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ: سعودی عرب ابراہیم معاہدے میں شامل ہوگا، "ہم حل نکال لیں گے"

سیئول  — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں واضح کیا ہے کہ وہ جنوبی کوریا کینیڈا سے ملاقات کے لیے نہیں آئے، بلکہ خطے کے رہنماؤں سے تجارتی اور سلامتی کے معاملات پر بات چیت کے لیے موجود ہیں۔

ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹروتھ سوشل (Truth Social) پر لکھا “جو لوگ پوچھ رہے ہیں، ان کے لیے واضح کر دوں — ہم کینیڈا دیکھنے کے لیے جنوبی کوریا نہیں آئے!”

ٹرمپ جنوبی کوریا کے شہر گیانگجو میں ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن (APEC) اجلاس کے لیے پہنچے ہیں، جہاں وہ جنوبی کوریا اور چین کے صدور سمیت متعدد عالمی رہنماؤں سے ملاقات کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق، امریکی صدر بدھ کی شام ایک اجتماعی عشائیے میں شریک ہوں گے، جس میں کینیڈا کے وزیرِاعظم مارک کارنی بھی شریک ہیں۔

کارنی نے پیر کو کہا تھا کہ وہ ٹرمپ کے ساتھ تجارتی مذاکرات کے لیے تیار ہیں، جیسے ہی امریکی صدر رضامند ہوں۔ تاہم ٹرمپ نے حال ہی میں کینیڈا کے ساتھ تجارتی مذاکرات ختم کرنے اور کینیڈین درآمدات پر 10 فیصد اضافی محصولات عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔

یہ فیصلہ اُس وقت سامنے آیا جب اونٹاریو میں ایک سیاسی اشتہار میں سابق امریکی صدر رونالڈ ریگن کا ایک کلپ شامل کیا گیا، جس میں وہ کہتے ہیں کہ “ٹیرف تجارتی جنگوں اور معاشی تباہی کا باعث بنتے ہیں۔”

دوسری جانب، کینیڈین وزیرِاعظم مارک کارنی اپنے پہلے ایشیائی دورے پر ہیں تاکہ امریکہ پر انحصار کم کرنے، نئی منڈیوں تک رسائی بڑھانے، اور تجارتی و سلامتی کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کر سکیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے