چینی و امریکی صدور کی ملاقات کے بعد امریکا کا چین پر 10 فیصد ٹیرف کم کرنے کا اعلان

چینی و امریکی صدور کی ملاقات کے بعد امریکا کا چین پر 10 فیصد ٹیرف کم کرنے کا اعلان

بوسان — امریکا نے چین پر عائد 10 فیصد ٹیرف کم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی اہم ملاقات کے بعد سامنے آیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات میں تجارتی تعلقات، نایاب معدنیات، سویابین کی خریداری اور صنعتی شراکت داری پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

امریکی صدر ٹرمپ نے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ “چین پر ٹیرف 57 فیصد سے کم ہو کر 47 فیصد ہو جائے گا۔ ہم بلیک ویل چپس کے بارے میں بات نہیں کر رہے، بلکہ تمام نایاب معدنیات کے معاملات طے پا گئے ہیں۔ سویابین کی خریداری فوری طور پر شروع ہو جائے گی۔”

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کی چینی ہم منصب سے ملاقات نہایت مثبت اور نتیجہ خیز رہی۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ آئندہ سال اپریل 2026 میں چین کا سرکاری دورہ کریں گے، جس کے بعد چینی صدر شی جن پنگ بھی امریکا کا دورہ کریں گے۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا اور چین یوکرین کے مسئلے پر مشترکہ طور پر کام کریں گے، تاہم ملاقات کے دوران تائیوان کے مسئلے پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔

ذرائع کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان اس پیش رفت کے بعد عالمی منڈیوں میں استحکام کی امید بڑھ گئی ہے، جب کہ ماہرین کے مطابق ٹیرف میں نرمی سے امریکا-چین تجارتی کشیدگی میں کمی آئے گی۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے