اقوامِ متحدہ کا مؤقف: نیوکلیئر ٹیسٹنگ کسی بھی حالت میں جائز نہیں — ٹرمپ کے اشارے پر عالمی ردعمل

اقوامِ متحدہ: سیکرٹری جنرل کے انتخاب کا عمل شروع، خواتین امیدواروں پر زور دیا گیا

نیویارک – اقوامِ متحدہ نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی حالت میں جوہری تجربات کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا، یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیوکلیئر ٹیسٹنگ دوبارہ شروع کرنے کے اشارے کے بعد سامنے آیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس کے نائب ترجمان فرحان حق نے جمعرات کو کہا “سیکریٹری جنرل بارہا واضح کر چکے ہیں کہ موجودہ جوہری خطرات پہلے ہی خطرناک حد تک بڑھ چکے ہیں، لہٰذا ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جانا چاہیے جو غلط اندازوں یا تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔ جوہری تجربات کسی بھی صورت میں قابلِ قبول نہیں ہیں۔”

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات سے قبل سوشل میڈیا پر بیان دیا کہ امریکہ ’’برابری کی بنیاد پر‘‘ تین دہائیوں بعد جوہری تجربات دوبارہ شروع کرے گا۔

ٹرمپ کے مطابق “دوسرے ممالک کی جانب سے ہتھیاروں کی جانچ کے باعث میں نے محکمۂ جنگ کو ہدایت کی ہے کہ وہ بھی برابری کی بنیاد پر اپنے جوہری ہتھیاروں کی جانچ شروع کرے۔ یہ عمل فوری طور پر شروع ہو جائے گا۔”

یہ اعلان امریکی جوہری پالیسی میں ایک ممکنہ بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ امریکہ نے 1992 کے بعد سے کوئی نیوکلیئر دھماکہ نہیں کیا۔

روس نے اس پیشرفت پر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کوئی ملک دوبارہ جوہری تجربات شروع کرتا ہے تو ماسکو بھی اس کی پیروی کرے گا۔
کریملن کے ترجمان نے کہا کہ "جوہری تجربات پر عالمی پابندی برقرار ہے، لیکن اگر امریکہ اس معاہدے کی خلاف ورزی کرے گا تو روس خاموش نہیں بیٹھے گا۔”

واضح رہے کہ جامع نیوکلیئر ٹیسٹ پابندی معاہدہ (CTBT) پر امریکہ نے دستخط تو کر رکھے ہیں لیکن اس کی توثیق نہیں کی گئی۔ اس کے باوجود واشنگٹن نے 1992 سے عملی طور پر اس معاہدے کی پاسداری کی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، ٹرمپ کا یہ عندیہ ایک نئی جوہری ہتھیاروں کی دوڑ کا آغاز کر سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب امریکہ، روس اور چین کے تعلقات میں تناؤ بڑھ رہا ہے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی نئی ٹیسٹنگ پالیسی سے بین الاقوامی امن و سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے