واشنگٹن / دارالسلام – امریکہ نے مشرقی افریقی ملک تنزانیہ میں اپنے شہریوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جاری انتخابی تشدد کے دوران اپنی جگہ پر رہیں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔
یہ انتباہ اس وقت سامنے آیا ہے جب دارالسلام سمیت مختلف شہروں میں پرتشدد مظاہرے پھوٹ پڑے، جن میں اپوزیشن کے دو اہم امیدواروں کی نااہلی کے بعد حالات کشیدہ ہو گئے ہیں۔
امریکی سفارت خانے نے ایک بیان میں کہا "تنزانیہ میں امریکی شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ گھروں یا محفوظ مقامات پر رہیں، ہجوم سے دور رہیں، اور سڑکوں پر رکاوٹوں یا پولیس کارروائی کے مقامات کے قریب نہ جائیں۔”
دارالسلام میں بدھ کی رات کو ہونے والے مظاہروں کے دوران متعدد سڑکیں بند ہو گئیں، جبکہ پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور ربڑ کی گولیاں استعمال کیں۔
عینی شاہدین کے مطابق، مظاہرین نے ٹائر جلا دیے اور سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کر دیں، جس کے باعث مرکزی شہر میں ٹریفک مکمل طور پر معطل ہو گئی۔
یہ تشدد اُس وقت بھڑکا جب الیکشن کمیشن نے دو اپوزیشن رہنماؤں کو نااہل قرار دیا — ایک اقدام جسے حکومت مخالف جماعتوں نے ’’جمہوریت پر حملہ‘‘ قرار دیا۔
مبصرین کے مطابق، حالیہ بدامنی سے ملک کی سیاسی استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں جمہوری عمل پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے۔
سفارت خانے نے اپنے شہریوں کو ہدایت کی کہ وہ مقامی میڈیا کے ذریعے تازہ ترین معلومات حاصل کریں اور ہنگامی صورتحال میں سفارت خانے یا قونصلر سروس سے رابطہ کریں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ "ہم صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں اور اپنے شہریوں کی سلامتی کو اولین ترجیح دیتے ہیں۔”
