اسرائیل کی اعلیٰ فوجی وکیل فوجیوں کی ویڈیو لیک کرنے کے اعتراف کے بعد گرفتار

اسرائیل کی اعلیٰ فوجی وکیل فوجیوں کی ویڈیو لیک کرنے کے اعتراف کے بعد گرفتار

یروشلم  — اسرائیلی فوج کی اعلیٰ قانونی افسر یفات ٹومر-یروشلمی کو اس وقت گرفتار کر لیا گیا جب انہوں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے ایک ایسی ویڈیو لیک کی تھی جس میں فوجیوں کو فلسطینی قیدی پر بدسلوکی کرتے دیکھا گیا تھا۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق ٹومر-یروشلمی پر دھوکہ دہی، عہدے کے غلط استعمال، انصاف میں رکاوٹ ڈالنے اور سرکاری معلومات افشا کرنے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ ان کی گرفتاری نے اسرائیل میں فوجی نظم و ضبط، قانون کی حکمرانی اور فلسطینی قیدیوں کے ساتھ سلوک پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

گزشتہ سال جولائی 2024 میں استغاثہ نے Sde Teiman فوجی حراستی مرکز پر چھاپہ مارا تھا، جو تشدد کے لیے بدنام ہے۔ اس کارروائی میں 11 فوجیوں کو گرفتار کیا گیا تھا، جن پر الزام تھا کہ انہوں نے ایک فلسطینی قیدی پر بہیمانہ تشدد کیا، جس میں زیادتی بھی شامل تھی۔ متاثرہ شخص کو شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔

ٹومر-یروشلمی نے بطور فوجی ایڈووکیٹ جنرل اس کیس کی تحقیقات شروع کیں، لیکن بعد ازاں انہوں نے ویڈیو جاری کرنے کا اعتراف کرتے ہوئے استعفیٰ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام اس لیے کیا گیا تاکہ “فوجی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے” کو ختم کیا جا سکے۔

ان کی اس کارروائی کے بعد اسرائیل میں انتہائی دائیں بازو کے سیاست دانوں اور تجزیہ کاروں نے ان کے خلاف شدید مہم شروع کر دی۔
انہوں نے ویڈیو لیک کرنے والے فوجی افسر کو "غدار” اور فلسطینی اسیران پر حملہ کرنے والے فوجیوں کو “ہیرو” قرار دیا۔

وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایک بیان میں کہا کہ “Sde Teiman کے واقعے نے اسرائیل اور آئی ڈی ایف کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ یہ شاید اسرائیل کی تاریخ کا سب سے بڑا عوامی تعلقات کا بحران ہے۔”

حکومتی اور سیاسی دباؤ کے بعد ٹومر-یروشلمی نے دیگر مبینہ جنگی جرائم کی تحقیقات روک دی تھیں۔
Haaretz کے مطابق، وہ عوامی دباؤ کے باعث مزید کارروائی سے گریز کر رہی تھیں۔

استعفیٰ کے اعلان کے بعد ٹومر-یروشلمی کو آن لائن دھمکیوں کا سامنا رہا۔ ان کی گاڑی تل ابیب کے ساحل پر خالی ملی، جس کے بعد انہیں کچھ دیر کے لیے لاپتہ تصور کیا گیا، مگر بعد میں وہ مل گئیں۔ اس کے بعد ان کے خلاف مظاہرے مزید تیز ہو گئے۔

اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی اور تشدد کے واقعات بارہا رپورٹ ہو چکے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے کمیشن نے اسرائیل کی کارروائیوں کو “نسل کشی کی جنگ” قرار دیا ہے، تاہم ابھی تک کسی بھی اسرائیلی فوجی پر غزہ میں عام شہریوں کی ہلاکت کے الزام میں فردِ جرم عائد نہیں کی گئی۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے