امریکا کا نیا ویزا قانون: موٹاپے اور ذیابیطس کے شکار غیر ملکیوں کو ویزا نہ دینے کا اعلان

0

واشنگٹن — امریکی حکومت نے ایک متنازع فیصلے کے تحت اعلان کیا ہے کہ موٹاپے اور ذیابیطس کے شکار غیر ملکی افراد کو امریکا کا ویزا جاری نہیں کیا جائے گا۔

امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے دنیا بھر میں موجود سفارت خانوں کو جاری مراسلے میں ہدایت کی گئی ہے کہ ان بیماریوں میں مبتلا افراد کی ویزا درخواستیں مسترد کر دی جائیں۔

محکمہ خارجہ کے مطابق یہ فیصلہ قومی صحت کے خطرات کو کم کرنے اور امریکا کے مفادات کے تحفظ کے لیے کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اس فیصلے سے خاص طور پر وہ افراد متاثر ہوں گے جو امریکی طبی معیار پر پورا نہیں اترتے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں اور امیگریشن ماہرین نے اس پالیسی کو "امتیازی اور غیر انسانی” قرار دیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت کا یہ فیصلہ امیگریشن پالیسی میں مزید تفریق پیدا کرے گا اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں سے انحراف کے مترادف ہے۔

امریکی حکام کے مطابق، اس نئے فیصلے پر عمل درآمد کی کوئی حتمی تاریخ تاحال مقرر نہیں کی گئی۔ تاہم امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ قانون آئندہ چند ہفتوں میں مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا۔

صحت عامہ کے ماہرین کے مطابق، امریکا کا یہ فیصلہ عالمی سطح پر ویزا پالیسیوں کے نئے تنازع کو جنم دے سکتا ہے، کیونکہ دنیا بھر میں موٹاپا اور ذیابیطس عام بیماریاں ہیں، جو لاکھوں افراد کو متاثر کر رہی ہیں۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.