بیلیم — برازیل کے شہر بیلیم میں جاری اقوام متحدہ کے COP30 موسمیاتی سربراہی اجلاس کے دوران درجنوں مقامی مظاہرین نے اجلاس کے مقام پر زبردستی داخل ہونے کی کوشش کی، جس پر سیکیورٹی فورسز سے جھڑپیں ہوئیں۔
عینی شاہدین کے مطابق مظاہرین نے “ہماری زمین فروخت کے لیے نہیں” اور “ہم پیسے نہیں کھا سکتے” جیسے نعروں والے بینرز اٹھا رکھے تھے اور جنگلات کے تحفظ، زمینوں کے حقوق اور موسمیاتی انصاف کا مطالبہ کر رہے تھے۔
جھڑپ کے دوران مظاہرین اور سیکیورٹی اہلکاروں میں دھکم پیل اور تصادم ہوا، جس میں دو سیکیورٹی گارڈز معمولی زخمی ہوگئے۔ رائٹرز کے مطابق ایک اہلکار کو آنکھ کے اوپر چوٹ لگی جبکہ دوسرے کو پیٹ میں زخم آیا۔
اقوام متحدہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ مظاہرین نے مرکزی داخلی دروازے کی حفاظتی رکاوٹیں توڑ دیں جس سے “پنڈال کو معمولی نقصان” پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ “برازیل اور اقوام متحدہ کے سیکورٹی اہلکاروں نے تمام حفاظتی پروٹوکول پر عمل کیا اور مقام کو مکمل طور پر محفوظ بنا دیا گیا ہے۔”
ترجمان کے مطابق، واقعے کے باوجود سربراہی اجلاس کے مذاکرات معمول کے مطابق جاری ہیں، اور واقعے کی تحقیقات برازیلی و اقوام متحدہ کے حکام کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ برازیل کے صدر لولا دا سلوا نے COP30 اجلاس میں مقامی برادریوں کو ماحولیاتی پالیسی کا کلیدی حصہ قرار دیا ہے۔

