جنوبی کوریا: مارشل لا منصوبے سے پارلیمنٹ کو آگاہ نہ کرنے پر سابق انٹیلی جنس چیف کے وارنٹ گرفتاری جاری

0

سیئول — جنوبی کوریا کی عدالت نے منگل کے روز قومی انٹیلی جنس سروس کے سابق سربراہ چو تائی یونگ کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کر دیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ وہ سابق صدر یون سک یول کے مبینہ مارشل لا منصوبے سے قبل آگاہ تھے مگر پارلیمنٹ کو اطلاع نہیں دی۔

یونہاپ نیوز ایجنسی کے مطابق سیول سنٹرل ڈسٹرکٹ کورٹ نے وارنٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ شواہد مٹانے کے خدشات کی بنیاد پر گرفتاری ضروری ہے۔ عدالت کے جج نے کہا کہ تحقیقات کی حساس نوعیت کے پیش نظر چو کو حراست میں لینا ناگزیر تھا۔

پراسیکیوٹرز کے مطابق، چو تائی یونگ نے قومی انٹیلی جنس سروس کے سربراہ کی حیثیت سے سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے قانون کی خلاف ورزی کی اور مبینہ طور پر مارشل لا کی تیاریوں میں ملوث اعلیٰ حکام سے رابطے میں تھے۔

عدالتی کارروائی کے دوران چو نے تمام الزامات کی تردید کی، ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی غیر آئینی اقدام میں شامل نہیں تھے۔

خصوصی پراسیکیوٹر کے دفتر نے گزشتہ ہفتے عدالت سے ان کے خلاف وارنٹ طلب کیا تھا، جبکہ عدالت نے اب حتمی منظوری دے دی ہے۔

واضح رہے کہ یہ کیس 2024 میں سامنے آنے والی اس رپورٹ کے بعد شروع ہوا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ سابق صدر یون سک یول نے اپنے دور حکومت کے آخری مہینوں میں مارشل لا کے نفاذ پر غور کیا تھا۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.