اسرائیلی مذاکرات کار اور وزیر رون ڈرمر کا استعفیٰ
یروشلم – اسرائیل کے اسٹریٹجک امور کے وزیر رون ڈرمر، جنہوں نے غزہ جنگ بندی مذاکرات میں مرکزی کردار ادا کیا تھا، نے اپنے وزارتی عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
ڈرمر، جو وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں، نے کئی ماہ تک جاری رہنے والے مذاکرات کی قیادت کی جس کے نتیجے میں 10 اکتوبر کو غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کے تبادلے کا معاہدہ عمل میں آیا۔
منگل کو دیر گئے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابق ٹوئٹر) پر اپنے استعفے کے خط میں رون ڈرمر نے لکھا کہ “اس حکومت کی پہچان 7 اکتوبر کے حملے اور اس کے بعد ہونے والی دو سالہ جنگ کے ذریعے ہوگی۔ دو سال بعد ہم نے ایران کے دہشت گردی کے محور کو ایک تباہ کن دھچکا لگایا ہے اور اب ہم سلامتی، خوشحالی اور امن کے نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ مستقبل میں ان کے لیے کیا راستہ ہوگا، لیکن وہ یہودی قوم کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔
اپنے خط میں ڈرمر نے وزیرِ اعظم نیتن یاہو کی "تجربہ کار اور مضبوط قیادت” کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ "جب حقائق سامنے آئیں گے تو ان کی قیادت کی قدر مزید بڑھ جائے گی۔”
ابھی یہ واضح نہیں کہ وہ غزہ جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کے لیے جاری مذاکرات میں بطور مرکزی مذاکرات کار اپنا کردار جاری رکھیں گے یا نہیں۔
وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے ایکس پر جاری بیان میں رون ڈرمر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ “آپ نے میرے اور اسرائیل کی ریاست کے لیے شاندار خدمات انجام دیں۔ مجھے یقین ہے کہ مستقبل میں بھی آپ کے پاس تعاون کے بے شمار مواقع ہوں گے۔”
رون ڈرمر اسرائیل کے ان چند سینئر سیاست دانوں میں شمار ہوتے ہیں جو نیتن یاہو کے قریبی مشیر اور پالیسی ساز کی حیثیت رکھتے ہیں، جبکہ ان کی قیادت میں ہونے والے مذاکرات نے غزہ میں کشیدگی کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔