جنیوا — اقوام متحدہ کی خواتین کی تنظیم نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ سوڈان میں ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) نسلی بنیادوں پر خواتین اور بچوں کو قتل، اغوا اور جنسی تشدد کا نشانہ بنا رہی ہیں۔
تنظیم کے مطابق دارفور کے شہر الفاشر کے زوال کے بعد ریپڈ سپورٹ فورسز نے خطے پر اپنی گرفت مزید مضبوط کر لی ہے، جہاں اڑھائی سال سے سوڈانی فوج اور آر ایس ایف کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق الفاشر میں عام شہریوں پر سڑکوں پر فائرنگ کی جا رہی ہے جبکہ ڈرونز سے حملے بھی کیے جا رہے ہیں۔
النازک صورتحال سے فرار ہونے والی خواتین نے اقوام متحدہ کو بتایا کہ علاقے میں قتل، اجتماعی عصمت دری، اور بچوں کے اغوا کے واقعات عام ہو چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کی خواتین کی مشرقی و جنوبی افریقہ کی ریجنل ڈائریکٹر انا موٹاوتی نے کہا ہے کہ متاثرہ خواتین کو ناقابلِ بیان ہولناکیوں کا سامنا ہے۔ان کے مطابق "جنسی تشدد منظم انداز میں استعمال کیا جا رہا ہے، ہمارے پاس واضح شواہد ہیں کہ عصمت دری کو دانستہ طور پر جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔”
انہوں نے بتایا کہ سوڈان میں خواتین کی لاشیں ایک جرم گاہ کی مانند مناظر پیش کر رہی ہیں، اور اب وہاں کوئی محفوظ جگہ یا پناہ گاہ باقی نہیں رہی جہاں خواتین کو نفسیاتی یا سماجی مدد فراہم کی جا سکے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق دارفور میں تقریباً 11 ملین خواتین اور لڑکیاں شدید خوراک کی قلت کا شکار ہیں۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کھانے کی تلاش میں نکلنے والی خواتین کو اغوا، عصمت دری اور تشدد جیسے خطرات کا سامنا رہتا ہے۔
کئی خواتین کو پتے، جنگلی بیر اور جڑی بوٹیاں ابال کر اپنی بھوک مٹانے پر مجبور پایا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق 26 اکتوبر سے اب تک 82,000 سے زائد افراد الفاشر اور اس کے نواحی علاقوں سے فرار ہو چکے ہیں، جبکہ تقریباً 2 لاکھ شہری ابھی بھی شہر میں پھنسے ہوئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے خبردار کیا ہے کہ پھانسیوں، عصمت دری اور نسلی تشدد کے تسلسل نے الفاشر کو ایک کھلے قبرستان میں تبدیل کر دیا ہے۔
اقوام متحدہ کی خواتین کی تنظیم نے عالمی برادری، خصوصاً افریقی یونین اور سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سوڈان میں جاری انسانی بحران کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کرے اور متاثرہ خواتین و بچوں کو تحفظ اور امداد فراہم کرے۔
