محمد بن سلمان خاشقجی قتل بارے کچھ نہیں جانتے۔ صحافی کے سوال پر ٹرمپ نےسعودی ولی عہد کا دفاع کیا

0

واشنگٹن – امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز کہا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو 2018 میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بارے میں علم نہیں تھا۔ ٹرمپ کا یہ بیان امریکی انٹیلی جنس اداروں کے اس جائزے کے برعکس ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ولی عہد نے استنبول میں سعودی قونصل خانے میں خاشقجی کی گرفتاری یا قتل کی منظوری دی تھی۔

ممتاز سعودی ناقد اور واشنگٹن پوسٹ کے کالم نگار جمال خاشقجی کے قتل کا معاملہ اس وقت دوبارہ موضوعِ بحث بنا جب سعودی ولی عہد سات سال سے زائد عرصے بعد پہلی مرتبہ وائٹ ہاؤس پہنچے۔ اپنے اس دورے میں وہ اس واقعے سے متاثر ہونے والے عالمی امیج کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے دکھائی دیے۔

بعد ازاں ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ سعودی عرب کو ایک بڑے غیر نیٹو اتحادی کے طور پر نامزد کر رہا ہے۔ دونوں ممالک نے ہتھیاروں کی فروخت، سول جوہری تعاون، مصنوعی ذہانت اور اہم معدنیات سے متعلق معاہدوں کا بھی اعلان کیا۔

اوول آفس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ’’چیزیں ہوئیں، لیکن وہ اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تھے، اور ہم اسے اسی پر چھوڑ سکتے ہیں۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ خاشقجی کے بارے میں ’’بہت سے لوگ مختلف خیالات رکھتے تھے‘‘۔

محمد بن سلمان نے بتایا کہ خاشقجی کی موت کی خبر ’’تکلیف دہ‘‘ تھی، تاہم ان کے مطابق سعودی حکومت نے واقعے کی تحقیقات کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے۔ انہوں نے کہا کہ مملکت میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے نظام کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے۔

ٹرمپ نے ایک موقع پر اس صحافی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جس نے خاشقجی سے متعلق سوال پوچھا، جبکہ انہوں نے بن سلمان کی ’’انسانی حقوق کے شعبے میں کام‘‘ کی تعریف کی، تاہم اس کی کوئی تفصیل فراہم نہیں کی۔

خاشقجی کی بیوہ حنان الاطر نے ٹرمپ کے مؤقف کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی شخص کی متنازعہ حیثیت ’’ایک خوفناک جرم‘‘ کا جواز نہیں بن سکتی۔ انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ ٹرمپ ان سے ملاقات کریں تاکہ وہ انہیں ’’حقیقی جمال‘‘ سے متعارف کرا سکیں۔

محمد بن سلمان کو انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے نہ صرف خاشقجی کے قتل بلکہ اندرونِ ملک اختلاف رائے پر سخت کارروائیوں کے الزامات کا بھی سامنا ہے۔ تاہم مملکت میں ان کی جانب سے بعض بڑے سماجی اصلاحاتی اقدامات بھی متعارف کرائے گئے ہیں جن کے باعث کئی روایتی پابندیوں میں نرمی آئی ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.