اقوامِ متحدہ کمیٹی کا پاکستان کی حقِ خود ارادیت سے متعلق قرارداد پر اتفاقِ رائے سے منظور

0

اقوام متحدہ کی تیسری کمیٹی نے پاکستان کی جانب سے پیش کی گئی اس قرارداد کو اتفاقِ رائے سے منظور کر لیا ہے جس میں اُن اقوام اور عوام کے حقِ خود ارادیت کے جامع عزم کی توثیق کی گئی ہے جو اب بھی نوآبادیاتی، غیر ملکی یا اجنبی تسلط کے تحت زندگی گزار رہے ہیں۔ پاکستان نے اس موقع پر واضح کیا کہ حقِ خود ارادیت اقوام متحدہ کے مقاصد اور اصولوں کی بنیاد ہے اور عالمی برادری اس اصول کے تحفظ کی ذمہ دار ہے۔

یہ قرارداد 65 ممالک کی مشترکہ حمایت سے پاکستان کے مستقل مندوب برائے اقوامِ متحدہ، سفیر عاصم افتخار احمد نے پیش کی۔ قرارداد کی منظوری جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی میں ہوئی، جو سماجی، انسانی اور ثقافتی امور سے متعلق معاملات پر کام کرتی ہے۔ پاکستان 1981 سے یہ قرارداد پیش کر رہا ہے تاکہ عالمی توجہ اُن لوگوں کی جدوجہد کی جانب مبذول کرائی جا سکے جو اب بھی اپنے ناقابلِ تنسیخ حقِ خود ارادیت کے حصول کی کوشش کر رہے ہیں، جن میں فلسطین اور کشمیر کے عوام بھی شامل ہیں۔

قرارداد کو آئندہ ماہ جنرل اسمبلی سے حتمی توثیق کے لیے پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ اس کے متن کے مطابق جنرل اسمبلی غیر ملکی فوجی مداخلت اور قبضے کی اُن کارروائیوں کی سخت مخالفت کرے گی جو اقوام کے حقِ خود ارادیت کو سلب کرتی ہیں، اور ایسے اقدامات کی ذمہ دار ریاستوں سے انہیں فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کرے گی۔

سفیر عاصم افتخار نے کمیٹی سے خطاب میں کہا کہ اب بھی دنیا میں ایسے لوگ موجود ہیں جو غیر ملکی قبضے کے زیرِ اثر ہیں اور بنیادی آزادیوں سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جائز امنگوں کا جواب اکثر طاقت کے حد سے زیادہ استعمال، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں، بلا جواز حراسات، رابطے منقطع کرنے اور آبادیاتی انجینئرنگ کے طریقوں سے دیا جاتا ہے، جن میں غیر قانونی بستیاں بھی شامل ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ حقِ خود ارادیت اقوام متحدہ کے چارٹر کا بنیادی اصول ہے اور اسے مختلف بین الاقوامی معاہدات میں تسلیم کیا گیا ہے، جن میں شہری و سیاسی حقوق کا بین الاقوامی عہد اور معاشی، سماجی و ثقافتی حقوق کا عہد بھی شامل ہیں۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.