حزب اللہ نے پیر کے روز اپنے سرکاری بیان میں شہید سید طباطبائی کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے لبنان اور اس کے عوام کے دفاع میں قابلِ قدر قربانیاں دیں اور طویل عرصے تک تحریک کے عسکری ڈھانچے کو مضبوط بنانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ بیان کے مطابق سید طباطبائی کئی برسوں تک مزاحمتی سرگرمیوں کے اہم ستون رہے۔
جنازے کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حزب اللہ کی ایگزیکٹو کونسل کے سربراہ شیخ علی داموش نے شہید کمانڈر کو ’’میدان کا آدمی‘‘ اور مزاحمت کی ابتدائی کارروائیوں کے ’’معماروں‘‘ میں شمار کیا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک ایک اہم اسٹریٹجک ذہن سے محروم ہوئی ہے جس کی منصوبہ بندی نے تین دہائیوں سے زیادہ عرصے میں متعدد اہم مرحلوں پر اثر ڈالا۔
شیخ داموش کے مطابق سید طباطبائی نے 35 سال سے زائد عرصہ مزاحمتی کارروائیوں کیلئے وقف کیا اور وہ ان ابتدائی کمانڈروں میں شامل تھے جنہوں نے فیصلہ کن محاذ آرائیوں کی نگرانی کی، جنہیں حزب اللہ کی نظر میں اسرائیلی زمینی پیش قدمیوں کو روکنے میں بنیادی حیثیت حاصل تھی۔ انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ شہید کمانڈر نے لڑائیوں کے بعد کے مراحل میں قیادت، حکمت عملی اور ترقیاتی منصوبہ بندی میں کلیدی کردار ادا کیا۔
اپنے خطاب میں شیخ داموش نے کہا کہ ’’اسرائیلی دشمن بارہا غلطی کا شکار ہوا ہے کہ قیادت کے قتل سے حزب اللہ کمزور ہو جائے گی، جبکہ حقیقت میں ایسے واقعات تحریک کے عزم کو مزید مضبوط کرتے ہیں‘‘۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تازہ حملہ بھی ایک ’’سنگین غلطی‘‘ ہے جس کے نتائج کا سامنا اسرائیلی ادارے کو کرنا پڑے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ لبنانی حکومت کی طرف سے کی جانے والی سیاسی مراعات بے سود ثابت ہوئیں، جبکہ شہداء کی قربانیوں نے مزاحمتی راستے کو مزید تقویت بخشی ہے۔ شیخ داموش نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تحریک اپنے شہداء کی میراث کو جاری رکھے گی۔ ان کے بقول، ’’آپ نے جو سفر شروع کیا، ہم اسے مکمل کریں گے اور لبنان سمیت پوری قوم کے دفاع کیلئے میدان میں موجود رہیں گے۔‘‘
