امریکی امیگریشن حکام نے اوکلاہوما یونیورسٹی کے ایرانی اسسٹنٹ پروفیسر کو درست ویزا کے باوجود حراست میں لے لیا

0

تہران، ارنا – امریکی امیگریشن حکام نے ایرانی شہری اور اوکلاہوما یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر واحد عابدینی کو واشنگٹن ڈی سی جاتے ہوئے حراست میں لے لیا، حالانکہ ان کے پاس امریکہ میں قیام کے لیے ایک مکمل طور پر درست H-1B ویزا موجود ہے۔ ہف پوسٹ کے مطابق عابدینی اپنی اہلیہ، بورین کالج آف انٹرنیشنل اسٹڈیز میں ایرانی اسٹڈیز کی اسسٹنٹ پروفیسر فرزانہ فیملی کے ساتھ 22 نومبر کو ایک تعلیمی کانفرنس میں شرکت کے لیے روانہ تھے۔

رپورٹ کے مطابق واحد عابدینی کو لوگن کاؤنٹی شیرف کے دفتر میں ہفتے کے روز بُک کیا گیا اور پیر کی صبح اوکلاہوما سٹی میں ICE کے فیلڈ آفس منتقل کر دیا گیا۔ حراست کی وجوہات یا انہیں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کے حوالے کیے جانے سے متعلق کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی اور ICE نے بھی کوئی تبصرہ نہیں کیا، جبکہ پروفیسر عابدینی کے موجودہ مقام کا انکشاف نہیں کیا گیا۔

ایرانی نژاد امریکی ماہرِ سیاسیات اور جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے پروفیسر ولی نصر نے سوشل پلیٹ فارم X پر عابدینی کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک قابلِ احترام اسکالر ہیں اور ان کا ویزا اوکلاہوما یونیورسٹی کے ریکارڈ کے مطابق درست ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دوست، ساتھی اور طلبا سب ان کی بحفاظت رہائی اور تدریسی کام پر واپسی کی امید کر رہے ہیں۔

اوکلاہوما یونیورسٹی میں مڈل ایسٹ اسٹڈیز کے سینٹر کے ڈائریکٹر جوشوا لینڈس نے حراست کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے بتایا کہ عابدینی کو ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے روانگی کے دوران اچانک حراست میں لیا گیا، جبکہ ان کے پاس ’خصوصی پیشوں‘ کے لیے جاری ہونے والا درست H-1B ویزا موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حراست امیگریشن کے سخت گیر اقدامات کا نتیجہ ہے۔

ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے سخت امیگریشن ایجنڈے کے تحت غیر دستاویزی تارکین وطن کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں، جس کے دوران ایسے افراد کی گرفتاریوں پر بھی تنقید ہو رہی ہے جو قانونی طور پر امریکہ میں مقیم ہیں۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.