سان فرانسسکو پیس ٹریٹی میں تائیوان سے متعلق تمام شقیں غیر قانونی اور کالعدم ہیں، چین

0

بیجنگ: چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گو جیاکھون نے کہا ہے کہ سان فرانسسکو پیس ٹریٹی میں تائیوان کی خودمختاری سمیت چین کے علاقائی اور خود مختار حقوق سے متعلق تمام دفعات غیر قانونی اور کالعدم ہیں۔ ترجمان کے مطابق تائیوان کی چین واپسی دوسری جنگ عظیم کے نتائج اور جنگ کے بعد کے بین الاقوامی نظم و نسق کا بنیادی حصہ ہے۔

یومیہ پریس کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے گو جیاکھون نے کہا کہ قاہرہ اعلامیہ، پوٹسڈیم اعلامیہ، جاپان کے ہتھیار ڈالنے کے فرمان اور دیگر بین الاقوامی قانونی دستاویزات تائیوان پر چین کی خودمختاری کی واضح تصدیق کرتے ہیں۔ ترجمان کے مطابق تائیوان کی قانونی حیثیت کا مسئلہ 1945 میں جاپانی جارحیت کے خلاف جنگ میں چین کی فتح کے فوراً بعد مکمل طور پر حل ہو چکا تھا۔

انہوں نے کہا کہ نام نہاد سان فرانسسکو پیس ٹریٹی ایک یکطرفہ دستاویز تھی، جسے چین، روس اور دوسری جنگ عظیم میں شامل اہم فریقوں کو شامل کیے بغیر تیار کیا گیا، اور یہ 1942 کے اقوام متحدہ اعلامیے کی اس شق کی خلاف ورزی کرتی ہے جس میں دشمن ریاستوں کے ساتھ علیحدہ امن مذاکرات کی ممانعت ہے۔ ترجمان کے مطابق یہ معاہدہ اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، اسی لیے اس میں تائیوان کی خودمختاری سے متعلق کوئی بھی شق قانونی حیثیت نہیں رکھتی۔

گو جیاکھون نے جاپانی وزیراعظم سانائے تاکائیچی کے حالیہ بیان پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ قاہرہ اور پوٹسڈیم اعلامیے کو نظر انداز کرتے ہوئے سان فرانسسکو معاہدے کو نمایاں کرنا جنگ کے بعد کے عالمی نظم اور بین الاقوامی قانون کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین اس طرزِ عمل کی سختی سے مخالفت کرتا ہے اور جاپان سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنے غلط بیانات واپس لے اور عملی اقدامات کے ذریعے اپنے وعدوں کا احترام ثابت کرے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.